Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے

ناصری لکھنوی

کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے

رات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سے

میرے دل کو تم نے چھیڑا کچھ عجب انداز سے

رنگ محفل بڑھ گیا اس ساز کی آواز سے

دیکھتے ہیں وہ رخ بیمار اس انداز سے

دل دھڑکتا ہے شکست رنگ کی آواز سے

سامنے آ کوئی کہہ دے اس قدر انداز سے

دیکھ دل بڑھتے ہیں تیرے تیر کی آواز سے

آج یہ راہ جنوں میں کس نے رکھا ہے قدم

ہل گیا سارا جہاں زنجیر کی آواز سے

بے پری سے رہ گئی بلبل کی ساری آرزو

در قفس کے وا ہیں اور مجبور ہے پرواز سے

اس قدر صدمہ ہوا رنگ گلستاں اڑ گیا

پر شکستہ بلبلوں کی حسرت پرواز سے

دیکھ کر جلوہ بھلا کیا ہوش میں رہتے کلیم

دل تو ٹکڑے ہو چکا تھا اک نئی آواز سے

دیکھنا ہے اس مہم میں کس طرح کرتا ہے صبر

امتحاں دل کا وہ لیں گے پاؤں کی آواز سے

موت کی ہے نیند سوتے ہیں شہیدان وفا

تو صدا دے جاگ اٹھیں شاید تری آواز سے

بزم میں ان کی گیا دل ناصریؔ میں بھی سنوں

آج کرتے ہیں جو باتیں وہ مرے ہم راز سے