Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں

وزیر علی صبا لکھنؤی

کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں

توبہ ہے رو سیاہ کیا ہیں

اللہ ہے عفو کرنے والا

میں کیا ہوں مرے گناہ کیا ہیں

اے دوست ترے گدا کے آگے

کچھ بھی نہیں بادشاہ کیا ہیں

تم سا کوئی بد چلن نہ ہوگا

ہے ہے عاشق تباہ کیا ہیں

گوری گوری ہے ان کی صورت

اس پر گیسوئے سیاہ کیا ہیں

چکر میں ہیں شیخ و گبر دونو

اپنے لئے خود تباہ کیا ہیں

دیکھے کوئی حال اہل دنیا

یہ لوگ بھی واہ واہ کیا ہیں

اتریں ان سے مقابلے کو

افلاک پہ مہر و ماہ کیا ہیں

دھومیں تیغ نگاہ کی ہیں

تیور اے کج کلاہ کیا ہیں

شاہد ہیں ترے ستم کے لاکھوں

دو چار اس کے گواہ کیا ہیں

اللہ رے ان بتوں کی آنکھیں

کافر جادو نگاہ کیا ہیں

کٹ جائے گی عمر چند روزہ

فکریں شام و پگاہ کیا ہیں

ان کا تو جواب ہی نہیں ہے

ماشاء اللہ واہ کیا ہیں

اے دل الفت کے محکمے میں

قاضی کیا ہے گواہ کیا ہیں

دل ہے تو زیادہ اس سے ہوں گے

یہ نالہ و اشک و آہ کیا ہیں

پہلو میں نگار ہاتھ میں جام

اس وقت تو بادشاہ کیا ہیں

ان کی آمد جو اے صباؔ ہے

سب مطلب رو بہ راہ کیا ہیں