Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے

گویا فقیر محمد

کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے

بار سر سے بھی سرگرانی ہے

چشم تر سے جو خوں فشانی ہے

ناوک عشق کی نشانی ہے

سارے قرآن سے اس پری رو کو

یاد اک لفظ لن ترانی ہے

جب ہوا رتبۂ فنا فی اللہ

غم نہیں گر جہان فانی ہے

ہے ہر اک شعر یار کی تصویر

فکر اپنی خیال مانی ہے

کیوں نہ ہوں عاشق لب جاناں

چشمۂ آب زندگانی ہے

اس کی رفتار کے لکھے ہیں جو وصف

کیا مری طبع میں آتی ہے

ناصحا عاشقی میں رکھ معذور

کیا کروں عالم جوانی ہے

کس سے دوں اس صنم کو میں تشبیہ

کب خدائی میں اس کا ثانی ہے

نہ مری زخم پر رکھو مرہم

میرے قاتل کی یہ نشانی ہے

سر کٹائیں گے شمع ساں خاموش

گر یہی اپنی بے زبانی ہے

ہم نہیں شمع ہوں جو اشک فشاں

کار عشاق جاں فشانی ہے

منہ نے گھر میں مرے رکھا اس کو

یہ بھی تائید آسمانی ہے

دل بھی اس سے اٹھا نہیں سکتے

ناتوانی سی ناتوانی ہے

قد موزوں کے عشق میں گویاؔ

رات دن شغل شعر خوانی ہے