Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیا

مرزا علی لطف

کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیا

خم مرے منہ سے لگا دے جو سبو ٹوٹ گیا

کیجو اس زلف کو مشاط سمجھ کر شانہ

لاکھ دل ٹوٹے اگر ایک وہ مو ٹوٹ گیا

کچھ خبر ہے تجھے کہتے ہیں ترے زخمی کا

آج پھر چاک کا سینے کے رفو ٹوٹ گیا

فلک اس دل شکنی کا تو مزا دیکھے گا

کوئی دل گر کبھی اے عربدہ جو ٹوٹ گیا

تھی مریدوں کے لیے قلب کے صدمے کی دلیل

شیخ کا رقص میں سم پر جو وضو ٹوٹ گیا

دھیان اس شیشے کا رکھنا کہ نہ ہوگا پیوند

دل مری جان اگر یک سر مو ٹوٹ گیا

اس خود آرا کے رہا ہاتھ میں نت آئینہ

غم سے آئینہ دل ہائے نہ تو ٹوٹ گیا

محتسب نے تو خرابات میں کی خوں ریزی

پر سر رند پہ شب مے کا کدو ٹوٹ گیا

دیکھنا تار محبت کہ ہے مشکل پھر سانٹھ

رشتۂ دوستی اے لطفؔ کبھو ٹوٹ گیا