Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کسان

میکش حیدرآبادی

برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں

مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں

گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے

تصورات کی دنیا میں ساتھ لایا ہے

ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر

سیاہ ابر پہ رہ رہ کے اٹھ رہی ہے نظر

پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں

ہیں اس کی زیست کے اسرار پا کے کھونے میں

نفس ہے پھولی ہوئی جیسے پھونک بھٹے کی

رکھی ہے کان پہ بیڑی بنا کے پتے کی

لہو کی لہر سی ہے موج زن پسینے میں

بقائے دہر کا ہے راز اس کے جینے میں

ہر ایک سانس ہے اس کی بہار آزادی

کہ اس غلام کا دل ہے دیار آزادی