Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتا

غبار اپنا اگر گرد رہ منزل میں رہ جاتا

نہیں معلوم کس مدت سے خنجر تشنۂ خوں تھا

کوئی خطرہ لہو کا کیوں تن بسمل میں رہ جاتا

صفائی کب تھی ممکن یہ غبار دل وہ کافر ہے

مرے دل سے نکلتا بھی تو اس کے دل میں رہ جاتا

جلا اور جل کے سوز رشک سے دل بجھ گیا فوراً

اگر ہوتا چراغ و شمع اس محفل میں رہ جاتا

تأسف ہے غبار قیس کی پرواز حسرت پر

لپٹ کر کاش تھوڑا پردۂ محمل میں رہ جاتا

نہ دیتا گر سہارا کچھ امید وصل کا طوفاں

شناور بحر غم کا حسرت ساحل میں رہ جاتا

اس آئینے میں گر وہ دیکھ لیتے روئے انور کو

تو کیوں اتنا بڑا دھبہ مہ کامل میں رہ جاتا

نہ ملتا مدعائے دل درم ملتا جو منعم سے

مگر اک داغ بن کر وہ کف سائل میں رہ جاتا

نشاں اس کا کہیں ملتا سراغ اس کا کہیں لگتا

تو اپنا پاؤں کیوں تھک کر رہ منزل میں رہ جاتا

نظرؔ ہم کو علاقہ شعر سے کیا پر یہ حسرت ہے

نہ رہتے ہم تو اپنا ذکر اس محفل میں رہ جاتا