Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیا

شاہ اکبر داناپوری

کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیا

شوخیوں نے تری فقرہ بھی تو چلنے نہ دیا

پے بہ پے تیر نظر آئے سنبھلنے نہ دیا

چاندنی چوک سے بسمل کو نکلنے نہ دیا

جب سسکنے کا نہیں حکم تڑپنا کیسا

اتنا ارمان بھی قاتل نے نکلنے نہ دیا

بزم ہستی میں ابھی آ کے تو ہم بیٹھے تھے

یوں اجل آئی کہ زانو بھی بدلنے نہ دیا

شب فرقت سے ہو حاصل مجھے کس طرح نجات

سخت جانی نے مرا دم بھی نکلنے نہ دیا

رحم کر پردۂ فانوس سے اے شمع نکل

اس قدر ظلم کہ پروانوں کو جلنے نہ دیا

یہ دبایا قد موزوں نے ترے طوبیٰ کو

باغ فردوس میں بھی پھولنے پھلنے نہ دیا

خوب نظارۂ قاتل رہا اکبرؔ تہ تیغ

ہاتھ رک رک گیا تقدیر نے چلنے نہ دیا