Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے

میاں داد خاں سیاح

کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے

طائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہے

زلف مشکیں کا جو اس شوخ کے دھیان آتا ہے

زخم سے سینۂ مجروح کا چر جاتا ہے

ہجر میں موت بھی آئی نہ مجھے سچ ہے مثل

وقت پر کون کسی کے کوئی کام آتا ہے

اب تو اللہ ہے یاران وطن کا حافظ

دشت میں جوش جنوں ہم کو لیے جاتا ہے

ڈوب کر چاہ ذقن سینہ مرا دل نکلا

قد آدم سے سوا آب نظر آتا ہے

مژدہ اے دل کہ مسیحا نے دیا صاف جواب

اب کوئی دم کو لبوں پر مرا دم آتا ہے

تیغ سی چلتی ہے قاتل کی دم جنگ زباں

صلح کا نام جو لیتا ہے تو ہکلاتا ہے

طرۂ کاکل پیچاں رخ نورانی پر

چشمۂ آئینہ میں سانپ سا لہراتا ہے

شوق طوف حرم کوئے صنم کا دن رات

صورت نقش قدم ٹھوکریں کھلواتا ہے

دو بہ دو عاشق شیدا سے وہ ہوگا کیونکر

آئینے میں بھی جو منہ دیکھتے شرماتا ہے

سخت پچھتاتے ہیں ہم دے کے دل اس کو سیاحؔ

اپنی افسوس جوانی پہ ہمیں آتا ہے