Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

ہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے

یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے

لیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے

ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں

پیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے

رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قدر

میں ہوں زمیں پہ داغ مرے تا قمر گئے

رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج

بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے

دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ

کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

جانے لگا ہے دل کی طرف ان کا ہاتھ اب

نالے شب فراق کے کچھ کام کر گئے

حسرت کا یہ مزا ہے کہ نکلے نہیں کبھی

ارماں نہیں ہیں وہ کہ شب آئے سحر گئے

بس ایک ذات حضرت شیداؔ کی ہے یہاں

دہلی سے رفتہ رفتہ سب اہل ہنر گئے