Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں

Mustafa Khan Shefta (1809–1869)

کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں

کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں

کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل

کچھ زہر ملا ہوا مے میں

بدمست جہان ہو رہا ہے

ہے یار کی بو ہر ایک شے میں

ہیں ایک ہی گل کی سب بہاریں

فروردیں میں اور فصلِ دَے میں

ہے مستئ نیم خام کا ڈر

اصرار ہے جامِ پے بہ پے میں

مے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں

بزمِ جم و بارگاہِ کے میں

اب تک زندہ ہے نام واں کا

گزرا ہے حسین ایک جے میں

ہوتی نہیں طے حکایتِ طے

گزرا ہے کریم ایک طے میں

کچھ شیفتہ یہ غزل ہے آفت

کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں