Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم

عیش دہلوی

کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم

فانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہم

ہیں تفتہ جاں مفارقت گل بدن میں ہم

ایسا نہ ہو کہ آگ لگا دیں چمن میں ہم

گم ہوں گے بوئے زلف شکن در شکن میں ہم

قبضہ کریں گے چین کو لے کر ختن میں ہم

گر یہ ہی چھیڑ دست جنوں کی رہی تو بس

مر کر بھی سینہ چاک کریں گے کفن میں ہم

محو خیال زلف بتاں عمر بھر رہے

مشہور کیوں نہ ہوں کہو دیوانہ پن میں ہم

ہوں گے عزیز خلق کی نظروں میں دیکھنا

گر کر بھی اپنے یار کے چاہ ذقن میں ہم

چھکے ہی چھوٹ جائیں گے غیروں کے دیکھنا

آ نکلے ہاں کبھی جو تری انجمن میں ہم

اے عندلیب دعوی بیہودہ پر کہیں

ایک آدھ گل کا منہ نہ مسل دیں چمن میں ہم

عاشق ہوئے ہیں پردہ نشیں پر بس اس لیے

رکھتے ہیں سوز عشق نہاں جان و تن میں ہم

ظالم کی سچ مثل ہے کہ رسی دراز ہے

مصداق اس کا پاتے ہیں چرخ کہن میں ہم

عنقا کا عیشؔ نام تو ہے گو نشاں نہیں

یاں وہ بھی کھو چکے ہیں تلاش دہن میں ہم