Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا

رجب علی بیگ سرور

ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا

جا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کا

غیر داغ دل صد چاک نہ مونس نہ رفیق

زور عالم پہ ہے عالم مری تنہائی کا

پہروں ہی اپنے تئیں آپ ہوں بھولا رہتا

دھیان آتا ہے جب اپنے مجھے ہرجائی کا

زلزلہ گور میں مجنوں کی پڑا رہتا ہے

اپنا یہ شور ہے اب بادیہ پیمائی کا

جلوہ اس کا ہے ہر اک گھر میں بسان خورشید

فرق ہے اپنی فقط آہ یہ بینائی کا

کلمۂ حق بھی دم نزع نہ نکلا منہ سے

شیخ کو دھیان تھا ایسا بت ترسائی کا

کشش نالہ اسے کہتے ہیں اب وہ جو سرورؔ

محو نظارہ ہوا اپنے تماشائی کا