Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرف

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرف

لائیں جیسے طفل بد خو کو دبستاں کی طرف

فیض وحشت کا ادائے شکر جب واجب ہوا

سر جھکایا ہم نے محراب گریباں کی طرف

حاصل جوش جنوں ہے ماتم ہوش و خرد

خاک اڑاتے جاتے ہیں وحشی بیاباں کی طرف

عقل کے تیغ جنون تیز سے کوچے کٹے

کون آئے جادۂ چاک گریباں کی طرف

کر چکا جوش جنوں جنس خرد پر ہاتھ صاف

لوٹ اب آتی ہے بازار گریباں کی طرف

عشق کے مکتب میں جب آیا پئے درس جنوں

پہلے ہی انگلی اٹھی نون گریباں کی طرف

مائل زیور ہوا جب وہ حسین جامہ زیب

چاند آیا چرخ سے طوق گریباں کی طرف

ہوش میں آتے ہیں دیوانے گئی فصل بہار

دشت وحشت چھپ رہے پشت گریباں کی طرف

ناخن غم کا نشاں دل پر ہے مثل ماہ نو

انگلیاں اٹھتی ہیں اس زخم نمایاں کی طرف

جب کسی عاشق نے کچھ حال پریشانی کہا

ہنس دئے منہ پھیر کر زلف پریشاں کی طرف

ضعف میں جی کھول کر رونے کی حسرت ہے مجھے

دیکھتا ہے یاس سے ہر اشک داماں کی طرف

شمع کے شعلے ستم کرتے ہیں مثل برق طور

دیکھتا ہوں جب نظرؔ بزم حسیناں کی طرف