Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپنا

آفتاب شاہ عالم ثانی

کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپنا

پڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپنا

چلی جب باغ سے بلبل لٹا کر خانماں اپنا

نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا

نہ تو نے گل کیا اپنا نہ بلبل باغباں اپنا

چمن میں کس طرح سیتی بنایا خانماں اپنا

اٹھا کر لے چلی بلبل چمن سے آشیاں اپنا

کہا گل سے کہ لے یہ بے وفا ہم سے مکاں اپنا

ہوئی جب باغ سے رخصت کہا رو رو کے یا قسمت

لکھا تھا یوں کہ فصل گل میں چھوڑیں خانماں اپنا

ارے صیاد یوں چاہے تو جی اور جان سے حاضر

ولیکن طوق قمری کی طرح کر کے نشاں اپنا

مرا جلتا ہے جی اس بلبل بیکس کی غربت پر

کہ گل کے آسرے پر یوں لٹایا یاں خانماں اپنا

الم کر اس طرح روئی کہ رسوا ہو گئی بلبل

ڈبایا ہائے آنکھوں نے تمامی خانماں اپنا

مگر دل سے بنا رکھنا علی گوہر سے پیارے کو

وہ شاہی گو کہ رکھتا ہے ولے ہے مہرباں اپنا