Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے

مرزا شوق لکھنوی

کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے

پھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے

جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے

اندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے

بے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے

خورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے

ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ

بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے

کس چاک گریباں کا کیا آپ نے ماتم

کپڑے بھی نہیں تم نے اتارے کئی دن سے

ان ناموں سے جاتے ہیں پکارے کئی دن سے

دل پھنس گیا ہے آپ کی زلفوں میں ہمارا

ہیں بندۂ بے دام تمہارے کئی دن سے

منہ گال پے رکھ دیتے ہیں سوتے میں چمٹ کر

کچھ کچھ تو حیا کم ہوئی بارے کئی دن سے

مہندی بھی ہے مسی بھی ہے لاکھا بھی ہے لب پر

کچھ رنگ ہیں بے رنگ تمہارے کئی دن سے

ڈر سے ترے کاکل کے نہیں چلتے ہیں رستہ

دم بند ہیں اس سانپ کے مارے کئی دن سے

آخر مری آہوں نے اثر اپنا دکھایا

گھبرائے ہوئے پھرتے ہو پیارے کئی دن سے

کس کشتۂ کاکل کا رکھا سوگ مری جاں

گیسو نہیں کیوں تم نے سنوارے کئی دن سے

پامال کرو گے کسی وارفتہ کو اپنے

اٹکھیلیاں ہیں چال میں پیارے کئی دن سے

اک شب مرے گھر آن کے مہمان رہے تھے

آئے نہیں اس شرم کے مارے کئی دن سے

پھر شوقؔ سے کیا اس بت عیار سے بگڑی

ہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے