Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا

اچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیا

کیا پوچھتے ہو ایسے مسافر کی سرگزشت

جس کو کہ دل بھی چھوڑ کے منزل میں رہ گیا

نکلا تھا بن سنور کے بہت چودھویں کا چاند

پھر بھی وہ تیرے رخ کے مقابل میں رہ گیا

قاتل نے تیغ میان میں کچھ سوچ کر رکھی

تھوڑا سا جب کہ دم تن بسمل میں رہ گیا

درہم ملا بھی منعم کج خلق سے اگر

اک داغ بن کے وہ کف سائل میں رہ گیا

اتنا بتا دے اس کے اٹھانے سے فائدہ

تصویر بن کے جو تری محفل میں رہ گیا

کیا جانے بحر عشق کی حالت وہ بد نصیب

دم توڑ کر جو دامن ساحل میں رہ گیا

فکر اس کی رنج اس کا امید اس کی کچھ نہ پوچھ

جو سر جھکا کے کوچۂ قاتل میں رہ گیا

تعبیر خواب زلف مسلسل تھی کیا یہی

عالمؔ جکڑ کے میں جو سلاسل میں رہ گیا