Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیں

منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی

کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیں

لکھا ہے جو قسمت میں ہم دیکھتے ہیں

کبھی آہ نعرہ کبھی کھینچتے ہیں

ہم اس ساز کا زیر و بم دیکھتے ہیں

خط سر نوشت اپنا ہم پڑھ رہے ہیں

تمہارا جو نقش قدم دیکھتے ہیں

مرے رو بہ رو وہ بہم غیر سے ہیں

نہ دیکھے کوئی جو کہ ہم دیکھتے ہیں

رہی گر تلاش کمر یوں ہی ہم کو

کوئی دم میں ملک عدم دیکھتے ہیں

ہزاروں گماں دل میں ہوتے ہیں پیدا

ترے ہاتھ میں جب قلم دیکھتے ہیں

نہیں جانا کس دن تو غیروں کے گھر پر

صریحاً تو آنکھوں سے ہم دیکھتے ہیں

نہیں آرزو کچھ بھی بوسے کی ہم کو

مگر ہم تمہارا کرم دیکھتے ہیں

جو عالم کہ دیکھا ہے کوئے بتاں میں

خدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیں

نظر آتے ہو سحرؔ عاشق کسی پر

تمہیں ہر گھڑی چشم نم دیکھتے ہیں