Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میں

مفتی صدر الدین خان آزردہ

کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میں

یہ وہ ہے برق آگ لگا دے نقاب میں

حال اس نگہ کا اس کے سراپے میں کیا کہوں

مور ضعیف پھنس گئی جا شہد ناب میں

ذکر وفا وہ سنتے ہی مجلس سے اٹھ گئے

کچھ گفتگو ہی ٹھیک نہ تھی ایسے باب میں

کیا پوچھتے ہو چارۂ ہو از خویش رفتگاں

سو جا سے چاک جامہ ہے سوزن خلاب میں

آواز صور تیرے شہیدوں کو روز حشر

لگتی تھی اک بھنک سی تو کانوں کو خواب میں

جو دیکھتے ہی اس سے یہ گزرا کبھو نہیں

یعقوب کے خیال و زلیخا کے خواب میں

ہر ہر روئیں سے خرقہ کے میرے ہے خونچکاں

غوطے تو سو دیے اسے زمزم کے آب میں

اس چشم اشکبار کے کیونکر ہو سامنے

رونے کا مادہ ہی نہیں ہے سحاب میں

قسمت تو دیکھ کھولی گرہ کچھ تو رہ گئے

ناخن ہمارے ٹوٹ کے بند نقاب میں

ہر وقت آرزوئے عذاب جحیم ہے

ہاتھوں سے ہجر کے ہوں میں کیا کیا عذاب میں