Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کیا دخل کسی سے مرض عشق شفا ہو

Mushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)

کیا دخل کسی سے مرض عشق شفا ہو

ممکن ہے کہ اس درد کی دنیا میں دوا ہو

بالوں کا گھرس رکھنا ہے پگڑی ہی میں بہتر

کیا فائدہ اک خلق گرفتار بلا ہو

مغرور نہ رہ ہستئ موہوم پہ غافل

یاں آنکھ جھپکتے ہی خدا جانیے کیا ہو

اے مشت غبار تن فرسودۂ عاشق

اس کو میں زمیں گیر ہے گیو اب تو ہوا ہو

گر چرخ پہ جاوے تو شفق ہووے مرا خوں

ور خاک میں پنہاں ہو تو واں رنگ حنا ہو

ہے صبح سے کچھ آج مرے دل کو بشاشت

اس کوچے سے قاصد تو نہ خط لے کے چلا ہو

کیا دور ہے گر روح مری بعد فنا بھی

پھرتی رہے کوچے میں ترے باد صبا ہو

پردہ میں اٹھاتا نہیں زنہار کسی کا

اس ڈر سے کہیں تو ہی نہ پردے میں چھپا ہو

ہے آئینے میں عکس ترا تیری ہی صورت

تو اس پہ فدا اور وہ تیرے پہ فدا ہو

چلتے ہی ترے بام پہ آیا ہے وہ کافر

کیوں اتنے قدم جلد اٹھاتا ہے کھڑا ہو

اے مصحفیؔ اس کوچے سے تو سر کو جھکائے

کیا جاوے ہے کم بخت ذرا رو بہ قفا ہو