Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا

قاسم علی خان آفریدی

کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا

شمع نہیں شرمندہ اور مہ دیکھ رخ کو دنگ تھا

کیوں نہ رکھوں داغ دل پر جیسے لالہ در چمن

خال غیر فام اس رخسار پر گل رنگ تھا

شرمگیں آنکھوں سے جس جانب کو پڑتی ہے نظر

نازکی شمشیر سے بسمل پہ عرصہ تنگ تھا

قتل میں عاشق کے شب کو کیا تجھے تاخیر ہے

شور غل تھا دھوم تھی اور اژدہام آہنگ تھا

آہ زاری پر کسی کی وہ نہ کرتا تھا خیال

گوش زد آواز اس دم ڈھولک و مردنگ تھا

ہو گیا محو تماشا غیر کی محفل میں کیوں

غیر تیرے دل مرا جیوں شیشہ وقف سنگ تھا

آفریدیؔ عشق کے باعث حیا جاتی رہی

کیا ہوا تیرے تئیں دعویٰ جو نام و ننگ تھا