Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں

پیارے لال رونق دہلوی

کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیں

نہ کچھ یہاں سے غرض ہے نہ کچھ وہاں سے ہمیں

خودی کو بھول کے مست الست ہو جانا

ملا ہے فیض یہ خم خانۂ مغاں سے ہمیں

اذاں حرم میں ہے ناقوس ہے کنشت میں تو

صدائیں آتی ہیں تیری کہاں کہاں سے ہمیں

پھر آج اٹھا ہے وہ پردۂ حجاب کہیں

شعاعیں سی نظر آتی ہیں کچھ یہاں سے ہمیں

مثال شمع ہیں سب رات بھر کے یہ جلوے

سحر کو اٹھنا ہے اس محفل جہاں سے ہمیں

مٹا کے ہستئ موہوم تجھ کو پایا ہے

پتہ ملا ہے ترا خاک بے نشاں سے ہمیں

چمن سے اٹھ گیا رونقؔ جب آشیاں اپنا

نہ پھر بہار سے مطلب نہ کچھ خزاں سے ہمیں