Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کیا گزر کیجئے صیاد دل آزار کے پاس

عبد الہادی وفا

کیا گزر کیجئے صیاد دل آزار کے پاس

برگ گل پھینکتا ہے مرغ گرفتار کے پاس

تیرے بیمار کی بالیں پہ کھڑی ہے حسرت

موت بیٹھی نظر آتی ہے وہ غم خوار کے پاس

بار بار آ کے وہ ٹھہراتے ہیں سودا دل کا

گھر انہوں نے جو بنایا ہے تو بازار کے پاس

شاخ گل دیکھ کے سامان خلش یاد آیا

رکھ دیا پارۂ دل دل کو ہر خار کے پاس

تیرے دروازہ پہ فتنوں نے لیا دم آ کر

تھک کے بیٹھی ہے قیامت تری دیوار کے پاس

زاہدا رحمت باری بھی برنگ توبہ

آ گئی ٹوٹ کے رندان قدح خوار کے پاس

میری خواری ہی قیامت میں مرے کام آئی

کوئی آیا نہ وفاؔ مجھ سے گنہ گار کے پاس