Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھا

ساحر دہلوی

کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھا

تو ہی تو تھا نہ تماشا نہ تماشائی تھا

حسن بے واسطۂ ذوق خود آرائی تھا

عشق بے واہمۂ لذت رسوائی تھا

تیری ہستی میں نہ کثرت تھی نہ وحدت پیدا

ہمہ و بے ہمہ و با ہمہ یکجائی تھا

پردہ در کوئی نہ تھا اور نہ در پردہ کوئی

غیرت عشق نہ تھی عالم تنہائی تھا

لا فنا تیری صفت تھی تیری ہستی کا ثبوت

بے نشاں تیرا نشاں صورت بینائی تھا

حال تھا حال نہ ماضی تھا نہ تھا مستقبل

از ازل تا بہ ابد جلوہ بہ رعنائی تھا

ذات قائم تھی بذات اور صفت تھی معدوم

کن نہ تھا معرکۂ انجمن آرائی تھا

بزم میں تو نے جو الٹا رخ روشن سے نقاب

ایک عالم تیرے جلوہ کا تماشائی تھا

فتنہ زا حسن ہوا عشق ہوا شور فگن

رم ہوا شوق فزا شوق تمنائی تھا

کوئی ثابت کوئی سیارہ کوئی متحیر

کوئی عاشق کوئی مجنوں کوئی سودائی تھا

حرف اور صوت میں آتا ہے کسی کا ہو کلام

ساحرؔ آغاز میں کن غایت پیدائی تھا