Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

Mah Laqa Chanda (1768–1824)

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں

بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

تیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر

شمع تو چربی کو آنکھوں میں دیئے بیٹھی ہے

تشنہ لب کیوں رہے اے ساقیٔ کوثر چنداؔ

یہ ترے جام محبت کو پیے بیٹھی ہے