Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی

عبدالرحمان احسان دہلوی

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی

اور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کی

وہ آگ لگی پان چبائے سے کسو کی

اب تک نہیں بجھتی ہے بجھائے سے کسو کی

بجھنے دے ذرا آتش دل اور نہ بھڑکا

مہندی نہ لگا یار لگائے سے کسو کی

کیا سوئیے پھر غل ہے در یار پہ شاید

چونکا ہے وہ زنجیر ہلائے سے کسو کی

کہہ دو نہ اٹھائے وہ مجھے پاس سے اپنی

جی بیٹھا ہی جاتا ہے اٹھائے سے کسو کی

جب میں نے کہا آئیے من جائیے بولے

ہم اور بھی روٹھیں گے منائے سے کسو کی

چپی میں جو کچھ بات کی میں نے تو یہ بولے

ہم تو نہیں دبنے کے دبائے سے کسو کی

یارو نہ چراغ اور نہ میں شمع ہوں لیکن

ہر شام کو جلتا ہوں جلائے سے کسو کی

پاتا نہیں گھر اس کا سمجھتا ہی نہیں ہے

اس بیت کے معنی بھی بتائے سے کسو کی

جب اس سے کہا میری سفارش میں کسو نے

حاصل بھی رلائے سے کڑھائے سے کسو کی

اک طعن سے یہ ہنس کے لگا کہنے کہ بے شک

ہم رولتے موتی ہیں رلائے سے کسو کی

کہتا ہے کہ احساںؔ نہ کہے گا تو سنے گا