Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اے بت ہیں حسن میں تری مشہور پنڈلیاںایسی کہاں سے لائے پری حور پنڈلیاںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  2. پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیںمل کر وہ عطر باغ میں اترائے جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  3. تشریف شب وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیںسر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  4. دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیںہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  5. دل مجھے کفر آشنا نہ کرےبندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  6. روح تنہا گئی جنت کو سبکساری سےچار کے کاندھے اٹھا جسم گرانباری سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  7. سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیںنام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  8. کوئی پری ہو اگر ہمکنار ہولی میںتو اب کی سال ہو دونی بہار ہولی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  9. اس قدر محو نہ ہوں آپ خود آرائی میںداغ لگ جائے نہ آئینۂ یکتائی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  10. اک بات پر قرار انہیں رات بھر نہیںدو دو پہر جو ہاں ہے تو دو دو پہر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  11. پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصالجن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  12. پھر نہ باقی رہے غبار کبھیہولی کھیلو جو خاکساروں میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  13. تری تعریف ہو اے صاحب اوصاف کیا ممکنزبانوں سے دہانوں سے تکلم سے بیانوں سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  14. چالیس جام پی کے دیا ایک جام مےساقی نے خوب راہ نکالی زکوٰۃ کیKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  15. چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  16. دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  17. سبز کپڑوں میں سیہ زلف کی زیبائی ہےدھان کے کھیت میں کیا کالی گھٹا چھائی ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  18. لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہےشعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  19. ناؤ کاغذ کی تن خاکیٔ انساں سمجھوغرق ہو جائیں گی چھینٹا جو پڑا پانی کاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  20. وہ اور مرض ہیں کہ شفا ہوتی ہے جن سےاچھے کہیں ان آنکھوں کے بیمار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  21. ہو گئے رام جو تم غیر سے اے جان جہاںجل رہی ہے دل پر نور کی لنکا دیکھوKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  22. ہیں دین کے پابند نہ دنیا کے مقیدکیا عشق نے اس بھول بھلیاں سے نکالاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)