Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہوائے شوخ کی آخر فسوں کاری یہ کیسی ہےاذیت دے کے ٹل جاتی ہے دل داری یہ کیسی ہےVali Madni
  2. چپکے چپکے خزاں آ گئی باغ میںپیڑ پودوں پہ زردی چھڑکنے لگیVali Madni
  3. لوگ حیراں ہیںکیوں چھوڑ کے شاخ گل کوVali Madni
  4. تمام ذی روح گرمیوں سے تڑپ رہے تھےبرس رہا تھا عجیب تشنہ لبی کا موسمVali Madni
  5. میں ہوںویرانے میںVali Madni
  6. خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہےمحبت ماورائے زندگی معلوم ہوتی ہےZabt Ansari
  7. رہا روشن ہمیشہ مطلع فکر و نظر اپناہتھیلی کا چراغ اور دار کا سورج ہے سر اپناZabt Ansari
  8. شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہاسب سو گئے تو گھر میں مرے رتجگا رہاZabt Ansari
  9. غم چھپاؤں کہ آشکار کروںکون سی وضع اختیار کروںZabt Ansari
  10. کیسی بلبل کہاں کے پروانےتم سلامت ہزار دیوانےZabt Ansari
  11. گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہےہائے وہ غیر جو اپنوں کی طرح ملتا ہےZabt Ansari
  12. محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہےخدا رکھے یہ ہشیاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہےZabt Ansari
  13. میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہاکہ روح بن کے رہا میں جس انجمن میں رہاZabt Ansari
  14. نہیں ہے فکر تجھے فکر ماسوا کے سواہزار بت ہیں ترے دل میں اک خدا کے سواZabt Ansari
  15. ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلوکہ ظلمتوں میں کرن بن کے آ سکو تو چلوZabt Ansari
  16. ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئیشاید اب حسن کے ترکش میں نہیں تیر کوئیZabt Ansari
  17. آمد ہے سال نو کی سماں ہے بہار کاسرسبز گلستاں ہے دل داغدار کاAaftab Rais Panipati
  18. اک پریم پجاری آیا ہے چرنوں میں دھیان لگانے کوبھگوان تمہاری مورت پر شردھا کے پھول چڑھانے کوAaftab Rais Panipati
  19. رام کے ہجر میں اک روز بھرت نے یہ کہاقلب مضطر کو شب و روز نہیں چین ذراAaftab Rais Panipati
  20. سرفروشان وطن کا یہ خیال اچھا ہےہند کے واسطے مرنے کا مآل اچھا ہےAaftab Rais Panipati
  21. سنو مادر ہند کے نونہالوصداقت پہ گردن کٹا لینے والوAaftab Rais Panipati
  22. سوراج کا جھنڈا بھارت میں گڑوا دیا گاندھی بابا نےدل قوم و وطن کے دشمن کا دہلا دیا گاندھی بابا نےAaftab Rais Panipati
  23. کیوں تامل ہے تجھے روز اجل آنے میںزیست کا لطف ملے گا مجھے مر جانے میںAaftab Rais Panipati
  24. گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کرچڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پرAaftab Rais Panipati
  25. گو خاک ہو چکا ہے ہندوستاں ہماراپھر بھی ہے کل جہاں میں پلا گراں ہماراAaftab Rais Panipati
  26. نند کے لال یشودا کے دلارے موہنہم تری یاد میں بیتاب ہیں سارے موہنAaftab Rais Panipati
  27. آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہیزندگی کن راستوں میں کن ٹھکانوں میں رہیAanand Saroop Anjum
  28. اس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گیوہ مجھے یاد کرے گا تو حیا آئے گیAanand Saroop Anjum
  29. کچھ بھی نہیں ہے پاس تمہاری دعا تو ہےاس شہر بے چراغ میں اک آسرا تو ہےAanand Saroop Anjum
  30. لہو لہو آرزو بدن کا لحاف ہوگاوہ کتنا بزدل ہے آج یہ انکشاف ہوگاAanand Saroop Anjum
  31. میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلےمرے پروں کو ہوا کیا اڑان سے پہلےAanand Saroop Anjum
  32. نئے زمانے کے نت نئے حادثات لکھنااداس پھولوں کی زرد پتوں کی بات لکھناAanand Saroop Anjum
  33. ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھآج ناحق ہے آنکھ تر نہ سمجھAanand Saroop Anjum
  34. ہر شے آنی جانی ہےجیون بہتا پانی ہےAanand Saroop Anjum
  35. ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تکوہی ہے ایک خموشی کا سلسلہ اب تکAanand Saroop Anjum
  36. ہو گئے آنگن جدا اور راستے بھی بٹ گئےکیا ہوا یہ لوگ کیوں اک دوسرے سے کٹ گئےAanand Saroop Anjum
  37. اک ایک لفظ کو برتوں گر اہتمام سے میںمقام اپنا بنا سکتا ہوں کلام سے میںBabar Zuhrab
  38. دل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میںتنہائی میں بھی تم کو پکارا کروں گا میںBabar Zuhrab
  39. سفر کی ظلمتوں میں یہ ستارہ چاہیے مجھ کوابھی تیری محبت کا سہارا چاہیے مجھ کوBabar Zuhrab
  40. کاسے میں اپنے چاند ستارے لیے ہوئےدرویش چل رہا ہے خسارے لیے ہوئےBabar Zuhrab
  41. کس پہ کھلتا ہے بانکپن اس کاہے تراشا ہوا بدن اس کاBabar Zuhrab
  42. کوئی تعبیر مرے خواب میں در آئی ہےجل پری جس طرح تالاب میں در آئی ہےBabar Zuhrab
  43. مری نگاہ نئی آب و تاب دیکھتی ہےکبھی ستارہ کبھی ماہتاب دیکھتی ہےBabar Zuhrab
  44. نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویرسکوت کھینچ رہا ہے کلام کی تصویرBabar Zuhrab
  45. ہجر کا آئنہ نہ ہو جاناخود سے مل کر جدا نہ ہو جاناBabar Zuhrab
  46. ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیںکہ جیسے نیلے فلک پر ستارے روشن ہیںBabar Zuhrab
  47. اگرچہ دل کو لے ساتھ اپنے آیا اشک مرانگاہ میں تری ہرگز نہ بھایا اشک مراباقر آگاہ ویلوری
  48. دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہواس لیے بن بنا کے آتے ہوباقر آگاہ ویلوری
  49. رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگااے ناگ ترے ہاتھ یہ کیا خوب من لگاباقر آگاہ ویلوری
  50. زخم اس سوکے کی کاری ہے خدا خیر کرےلوہو سیلاب سا جاری ہے خدا خیر کرےباقر آگاہ ویلوری