Poetry
Poet
Meter
- ہوائے شوخ کی آخر فسوں کاری یہ کیسی ہےاذیت دے کے ٹل جاتی ہے دل داری یہ کیسی ہےVali Madni
- چپکے چپکے خزاں آ گئی باغ میںپیڑ پودوں پہ زردی چھڑکنے لگیVali Madni
- لوگ حیراں ہیںکیوں چھوڑ کے شاخ گل کوVali Madni
- تمام ذی روح گرمیوں سے تڑپ رہے تھےبرس رہا تھا عجیب تشنہ لبی کا موسمVali Madni
- میں ہوںویرانے میںVali Madni
- خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہےمحبت ماورائے زندگی معلوم ہوتی ہےZabt Ansari
- رہا روشن ہمیشہ مطلع فکر و نظر اپناہتھیلی کا چراغ اور دار کا سورج ہے سر اپناZabt Ansari
- شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہاسب سو گئے تو گھر میں مرے رتجگا رہاZabt Ansari
- غم چھپاؤں کہ آشکار کروںکون سی وضع اختیار کروںZabt Ansari
- کیسی بلبل کہاں کے پروانےتم سلامت ہزار دیوانےZabt Ansari
- گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہےہائے وہ غیر جو اپنوں کی طرح ملتا ہےZabt Ansari
- محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہےخدا رکھے یہ ہشیاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہےZabt Ansari
- میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہاکہ روح بن کے رہا میں جس انجمن میں رہاZabt Ansari
- نہیں ہے فکر تجھے فکر ماسوا کے سواہزار بت ہیں ترے دل میں اک خدا کے سواZabt Ansari
- ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلوکہ ظلمتوں میں کرن بن کے آ سکو تو چلوZabt Ansari
- ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئیشاید اب حسن کے ترکش میں نہیں تیر کوئیZabt Ansari
- آمد ہے سال نو کی سماں ہے بہار کاسرسبز گلستاں ہے دل داغدار کاAaftab Rais Panipati
- اک پریم پجاری آیا ہے چرنوں میں دھیان لگانے کوبھگوان تمہاری مورت پر شردھا کے پھول چڑھانے کوAaftab Rais Panipati
- رام کے ہجر میں اک روز بھرت نے یہ کہاقلب مضطر کو شب و روز نہیں چین ذراAaftab Rais Panipati
- سرفروشان وطن کا یہ خیال اچھا ہےہند کے واسطے مرنے کا مآل اچھا ہےAaftab Rais Panipati
- سنو مادر ہند کے نونہالوصداقت پہ گردن کٹا لینے والوAaftab Rais Panipati
- سوراج کا جھنڈا بھارت میں گڑوا دیا گاندھی بابا نےدل قوم و وطن کے دشمن کا دہلا دیا گاندھی بابا نےAaftab Rais Panipati
- کیوں تامل ہے تجھے روز اجل آنے میںزیست کا لطف ملے گا مجھے مر جانے میںAaftab Rais Panipati
- گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کرچڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پرAaftab Rais Panipati
- گو خاک ہو چکا ہے ہندوستاں ہماراپھر بھی ہے کل جہاں میں پلا گراں ہماراAaftab Rais Panipati
- نند کے لال یشودا کے دلارے موہنہم تری یاد میں بیتاب ہیں سارے موہنAaftab Rais Panipati
- آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہیزندگی کن راستوں میں کن ٹھکانوں میں رہیAanand Saroop Anjum
- اس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گیوہ مجھے یاد کرے گا تو حیا آئے گیAanand Saroop Anjum
- کچھ بھی نہیں ہے پاس تمہاری دعا تو ہےاس شہر بے چراغ میں اک آسرا تو ہےAanand Saroop Anjum
- لہو لہو آرزو بدن کا لحاف ہوگاوہ کتنا بزدل ہے آج یہ انکشاف ہوگاAanand Saroop Anjum
- میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلےمرے پروں کو ہوا کیا اڑان سے پہلےAanand Saroop Anjum
- نئے زمانے کے نت نئے حادثات لکھنااداس پھولوں کی زرد پتوں کی بات لکھناAanand Saroop Anjum
- ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھآج ناحق ہے آنکھ تر نہ سمجھAanand Saroop Anjum
- ہر شے آنی جانی ہےجیون بہتا پانی ہےAanand Saroop Anjum
- ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تکوہی ہے ایک خموشی کا سلسلہ اب تکAanand Saroop Anjum
- ہو گئے آنگن جدا اور راستے بھی بٹ گئےکیا ہوا یہ لوگ کیوں اک دوسرے سے کٹ گئےAanand Saroop Anjum
- اک ایک لفظ کو برتوں گر اہتمام سے میںمقام اپنا بنا سکتا ہوں کلام سے میںBabar Zuhrab
- دل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میںتنہائی میں بھی تم کو پکارا کروں گا میںBabar Zuhrab
- سفر کی ظلمتوں میں یہ ستارہ چاہیے مجھ کوابھی تیری محبت کا سہارا چاہیے مجھ کوBabar Zuhrab
- کاسے میں اپنے چاند ستارے لیے ہوئےدرویش چل رہا ہے خسارے لیے ہوئےBabar Zuhrab
- کس پہ کھلتا ہے بانکپن اس کاہے تراشا ہوا بدن اس کاBabar Zuhrab
- کوئی تعبیر مرے خواب میں در آئی ہےجل پری جس طرح تالاب میں در آئی ہےBabar Zuhrab
- مری نگاہ نئی آب و تاب دیکھتی ہےکبھی ستارہ کبھی ماہتاب دیکھتی ہےBabar Zuhrab
- نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویرسکوت کھینچ رہا ہے کلام کی تصویرBabar Zuhrab
- ہجر کا آئنہ نہ ہو جاناخود سے مل کر جدا نہ ہو جاناBabar Zuhrab
- ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیںکہ جیسے نیلے فلک پر ستارے روشن ہیںBabar Zuhrab
- اگرچہ دل کو لے ساتھ اپنے آیا اشک مرانگاہ میں تری ہرگز نہ بھایا اشک مراباقر آگاہ ویلوری
- دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہواس لیے بن بنا کے آتے ہوباقر آگاہ ویلوری
- رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگااے ناگ ترے ہاتھ یہ کیا خوب من لگاباقر آگاہ ویلوری
- زخم اس سوکے کی کاری ہے خدا خیر کرےلوہو سیلاب سا جاری ہے خدا خیر کرےباقر آگاہ ویلوری