Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہواحسن پر آپ نے شیدا نہ ہوا تھا سو ہواباقر آگاہ ویلوری
  2. کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوںجب اس طرح عدم کا بھی میں ناقبول ہوںباقر آگاہ ویلوری
  3. محو فریاد ہو گیا ہے دلآہ برباد ہو گیا ہے دلباقر آگاہ ویلوری
  4. نہیں ہے اشک سے یہ خون ناب آنکھوں میںبھرا ہے رنگ سے تیرے شہاب آنکھوں میںباقر آگاہ ویلوری
  5. دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھاادھر ادھر میں دواں تھا مجھے معلوم نہ تھاباقر آگاہ ویلوری
  6. لب جاں بخش کے میٹھے کا تیرے جو مزہ پایاتو چشمہ زندگی کا اپنی لبریز بقا پایاباقر آگاہ ویلوری
  7. جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کیروئے خزاں کو خیر منائے بہار کیبیتاب عظیم آبادی
  8. دل لیے اور دکھا دکھا کے لیےکی جفا اور مزے جفا کے لیےبیتاب عظیم آبادی
  9. ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیںاس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیںبیتاب عظیم آبادی
  10. شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہاایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہابیتاب عظیم آبادی
  11. عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچےکچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچےبیتاب عظیم آبادی
  12. غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہومر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہوبیتاب عظیم آبادی
  13. کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتانہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتابیتاب عظیم آبادی
  14. ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیںآج تک میں نے اسے دیکھا نہیںبیتاب عظیم آبادی
  15. اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرارہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرابیتاب عظیم آبادی
  16. ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والےکہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والےبیتاب عظیم آبادی
  17. اگر جہاں میں خدا کے سوا کچھ اور نہیںتو پھر نصیب دعا کے سوا کچھ اور نہیںDaood Kaashmiri
  18. تو نہ پائے گا کہیں ذوق قضا میرے بادجو دم مرگ دے قاتل کو دعا میرے بعدDaood Kaashmiri
  19. ساتھ پا کر بھی ڈر گیا کوئیراستے میں ٹھہر گیا کوئیDaood Kaashmiri
  20. صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سےاب رشک ہر کسی کو ہے ان کے نصیب سےDaood Kaashmiri
  21. گئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملامگر یہ کیا کہ ہر اک شخص بے قرار ملاDaood Kaashmiri
  22. لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوںتیرگی سے کیا ڈرنا روشنی سے ڈرتا ہوںDaood Kaashmiri
  23. میں جب توہمات سے یکسر گزر گیااپنی ہی شکل دیکھ کے کیوں آج ڈر گیاDaood Kaashmiri
  24. نوائے زیست سے ملتی مری نوا تو نہیںمری نوا میں چھپی سی تری صدا تو نہیںDaood Kaashmiri
  25. ہمدم با خبر میری تنہائیاںمونس معتبر میری رسوائیاںDaood Kaashmiri
  26. خامشی گر تمہیں مرغوب ہے تنہا ہی رہوزندگی شور سے منسوب ہے تنہا ہی رہوDaood Kaashmiri
  27. آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہیدنیا ہمارے حال کو چپ دیکھتی رہیDaud Naseeb
  28. پھر اٹھی چشم فسوں ساز خدا خیر کرےدل ہے پھر غرق مئے ناز خدا خیر کرےDaud Naseeb
  29. دل نے سبو تو آنکھ نے ساغر اٹھا لیادونوں نے اپنا اپنا مقدر اٹھا لیاDaud Naseeb
  30. زندگی آج یہ کس موڑ پہ لے آئی ہےبھیڑ نظروں میں ہے احساس میں تنہائی ہےDaud Naseeb
  31. سکون پیار تبسم بہار گل شبنمخوشی میں زیست کو کیا کیا سمجھ گئے تھے ہمDaud Naseeb
  32. کوئی الزام نہ دنیا میں کسی پر رکھنادل لہو ہو بھی تو چہرے کو گل تر رکھناDaud Naseeb
  33. گزر نہیں ہے کسی کا تو راستہ کیوں ہےجو راستہ ہے تو محروم نقش پا کیوں ہےDaud Naseeb
  34. نہ جانے کون ہے اور کس کے انتظار میں ہےوہ ایک شخص جو برسوں سے رہ گزار میں ہےDaud Naseeb
  35. وہ تھے اپنے تو ہر اک دور تھا ہو کر اپنااب نہ تقدیر نہ قسمت نہ مقدر اپناDaud Naseeb
  36. ہو گیا ہم پہ جو نہ تھا ہونازندگی تجھ سے کیا خفا ہوناDaud Naseeb
  37. آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میںپھر کسی شعلے نے پائی ہے نمو برفاب میںEjaz Asif
  38. بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیایعنی حرف شوق کو زیر زباں رکھا گیاEjaz Asif
  39. پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہومنظر نکھار دے گی ہوا دیکھتے رہوEjaz Asif
  40. روشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیاآنکھ میں محفوظ تھے جتنے بھی منظر لے گیاEjaz Asif
  41. صدائے عہد وفا کو زوال کیوں آیالب سکوت پہ حرف سوال کیوں آیاEjaz Asif
  42. کس دل سے ہم ارادۂ ترک جنوں کریںممکن نہیں کہ خواہش صحرا کا خوں کریںEjaz Asif
  43. کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتاوہ شخص تو مرا دل بھی دکھا نہیں سکتاEjaz Asif
  44. نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہومثال صوت پریشاں فغاں سے ظاہر ہوEjaz Asif
  45. ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوںمیں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوںEjaz Asif
  46. ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنےحیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنےEjaz Asif
  47. ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیںہم کو اب حسرت دیدار تمنا بھی نہیںFaiz ul Hasan Khayal
  48. اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جاناغم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جاناFaiz ul Hasan Khayal
  49. جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیاخود بھی برباد ہوا مجھ کو بھی برباد کیاFaiz ul Hasan Khayal
  50. جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہیگویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہیFaiz ul Hasan Khayal