Poetry
Poet
Meter
- شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہواحسن پر آپ نے شیدا نہ ہوا تھا سو ہواباقر آگاہ ویلوری
- کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوںجب اس طرح عدم کا بھی میں ناقبول ہوںباقر آگاہ ویلوری
- محو فریاد ہو گیا ہے دلآہ برباد ہو گیا ہے دلباقر آگاہ ویلوری
- نہیں ہے اشک سے یہ خون ناب آنکھوں میںبھرا ہے رنگ سے تیرے شہاب آنکھوں میںباقر آگاہ ویلوری
- دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھاادھر ادھر میں دواں تھا مجھے معلوم نہ تھاباقر آگاہ ویلوری
- لب جاں بخش کے میٹھے کا تیرے جو مزہ پایاتو چشمہ زندگی کا اپنی لبریز بقا پایاباقر آگاہ ویلوری
- جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کیروئے خزاں کو خیر منائے بہار کیبیتاب عظیم آبادی
- دل لیے اور دکھا دکھا کے لیےکی جفا اور مزے جفا کے لیےبیتاب عظیم آبادی
- ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیںاس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیںبیتاب عظیم آبادی
- شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہاایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہابیتاب عظیم آبادی
- عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچےکچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچےبیتاب عظیم آبادی
- غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہومر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہوبیتاب عظیم آبادی
- کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتانہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتابیتاب عظیم آبادی
- ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیںآج تک میں نے اسے دیکھا نہیںبیتاب عظیم آبادی
- اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرارہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرابیتاب عظیم آبادی
- ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والےکہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والےبیتاب عظیم آبادی
- اگر جہاں میں خدا کے سوا کچھ اور نہیںتو پھر نصیب دعا کے سوا کچھ اور نہیںDaood Kaashmiri
- تو نہ پائے گا کہیں ذوق قضا میرے بادجو دم مرگ دے قاتل کو دعا میرے بعدDaood Kaashmiri
- ساتھ پا کر بھی ڈر گیا کوئیراستے میں ٹھہر گیا کوئیDaood Kaashmiri
- صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سےاب رشک ہر کسی کو ہے ان کے نصیب سےDaood Kaashmiri
- گئے جو کوچے میں اس کے تو اتنا پیار ملامگر یہ کیا کہ ہر اک شخص بے قرار ملاDaood Kaashmiri
- لوگ غم سے ڈرتے ہیں میں خوشی سے ڈرتا ہوںتیرگی سے کیا ڈرنا روشنی سے ڈرتا ہوںDaood Kaashmiri
- میں جب توہمات سے یکسر گزر گیااپنی ہی شکل دیکھ کے کیوں آج ڈر گیاDaood Kaashmiri
- نوائے زیست سے ملتی مری نوا تو نہیںمری نوا میں چھپی سی تری صدا تو نہیںDaood Kaashmiri
- ہمدم با خبر میری تنہائیاںمونس معتبر میری رسوائیاںDaood Kaashmiri
- خامشی گر تمہیں مرغوب ہے تنہا ہی رہوزندگی شور سے منسوب ہے تنہا ہی رہوDaood Kaashmiri
- آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہیدنیا ہمارے حال کو چپ دیکھتی رہیDaud Naseeb
- پھر اٹھی چشم فسوں ساز خدا خیر کرےدل ہے پھر غرق مئے ناز خدا خیر کرےDaud Naseeb
- دل نے سبو تو آنکھ نے ساغر اٹھا لیادونوں نے اپنا اپنا مقدر اٹھا لیاDaud Naseeb
- زندگی آج یہ کس موڑ پہ لے آئی ہےبھیڑ نظروں میں ہے احساس میں تنہائی ہےDaud Naseeb
- سکون پیار تبسم بہار گل شبنمخوشی میں زیست کو کیا کیا سمجھ گئے تھے ہمDaud Naseeb
- کوئی الزام نہ دنیا میں کسی پر رکھنادل لہو ہو بھی تو چہرے کو گل تر رکھناDaud Naseeb
- گزر نہیں ہے کسی کا تو راستہ کیوں ہےجو راستہ ہے تو محروم نقش پا کیوں ہےDaud Naseeb
- نہ جانے کون ہے اور کس کے انتظار میں ہےوہ ایک شخص جو برسوں سے رہ گزار میں ہےDaud Naseeb
- وہ تھے اپنے تو ہر اک دور تھا ہو کر اپنااب نہ تقدیر نہ قسمت نہ مقدر اپناDaud Naseeb
- ہو گیا ہم پہ جو نہ تھا ہونازندگی تجھ سے کیا خفا ہوناDaud Naseeb
- آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میںپھر کسی شعلے نے پائی ہے نمو برفاب میںEjaz Asif
- بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیایعنی حرف شوق کو زیر زباں رکھا گیاEjaz Asif
- پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہومنظر نکھار دے گی ہوا دیکھتے رہوEjaz Asif
- روشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیاآنکھ میں محفوظ تھے جتنے بھی منظر لے گیاEjaz Asif
- صدائے عہد وفا کو زوال کیوں آیالب سکوت پہ حرف سوال کیوں آیاEjaz Asif
- کس دل سے ہم ارادۂ ترک جنوں کریںممکن نہیں کہ خواہش صحرا کا خوں کریںEjaz Asif
- کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتاوہ شخص تو مرا دل بھی دکھا نہیں سکتاEjaz Asif
- نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہومثال صوت پریشاں فغاں سے ظاہر ہوEjaz Asif
- ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوںمیں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوںEjaz Asif
- ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنےحیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنےEjaz Asif
- ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیںہم کو اب حسرت دیدار تمنا بھی نہیںFaiz ul Hasan Khayal
- اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جاناغم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جاناFaiz ul Hasan Khayal
- جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیاخود بھی برباد ہوا مجھ کو بھی برباد کیاFaiz ul Hasan Khayal
- جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہیگویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہیFaiz ul Hasan Khayal