Poetry
Poet
Meter
- دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہاوہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہاFaiz ul Hasan Khayal
- صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلومزخم خوشیوں کے ہیں پیغام تمہیں کیا معلومFaiz ul Hasan Khayal
- کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارومے کدہ ہے اسے مقتل نہ بناؤ یاروFaiz ul Hasan Khayal
- لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئےکیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہئےFaiz ul Hasan Khayal
- وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیںیہ اور بات ہے خوش ہیں مگر اداس بھی ہیںFaiz ul Hasan Khayal
- ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرحتم نے گلشن کو بنایا ہے بیاباں کی طرحFaiz ul Hasan Khayal
- بے قراری سی بے قراری ہےسانس لینا بھی اب تو بھاری ہےHaatif Aarifi Fatehpuri
- بے وطن ہوں وطن میں آکر بھیجل رہا ہوں چمن میں آکر بھیHaatif Aarifi Fatehpuri
- جس کی جانب تو اک نظر دیکھےخواب تیرے وہ عمر بھر دیکھےHaatif Aarifi Fatehpuri
- دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گامیں بھی تجھ کو بھلا کے دیکھوں گاHaatif Aarifi Fatehpuri
- سانحہ آج کا یہ کیا کم ہےآدمی آدمی سے برہم ہےHaatif Aarifi Fatehpuri
- کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھیہم لوگ سچ کی راہ پہ چلتے ہیں آج بھیHaatif Aarifi Fatehpuri
- کوئی سمجھا نہیں لگی دل کیبات دل میں سدا رہی دل کیHaatif Aarifi Fatehpuri
- لٹ گیا چین تیرے جانے سےآنکھ بھر آئی مسکرانے سےHaatif Aarifi Fatehpuri
- میری الفت کو بھی جفا سمجھےمیں نے کیا سمجھا آپ کیا سمجھےHaatif Aarifi Fatehpuri
- وہ نظر بد گماں سی لگتی ہےزندگی رائیگاں سی لگتی ہےHaatif Aarifi Fatehpuri
- اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیاچھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیاIbrat Machlishahri
- اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہےانسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہےIbrat Machlishahri
- حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئےکہ موڑ ہوتے ہیں ہر راہ ہر گلی کے لئےIbrat Machlishahri
- اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرحرات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیاIbrat Machlishahri
- جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پرتو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتےIbrat Machlishahri
- زمیں کے جسم کو ٹکڑوں میں بانٹنے والوکبھی یہ غور کرو کائنات کس کی ہےIbrat Machlishahri
- زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔیہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائےIbrat Machlishahri
- سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میںوہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھاIbrat Machlishahri
- کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکاکہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیںIbrat Machlishahri
- وہ یوں ثبوت عروج و زوال دیتا تھااٹھا کے ہاتھ میں پتھر اچھال دیتا تھاIbrat Machlishahri
- جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگاتمہارا چاہنے والا نہ ہوگاخوشی محمد ناظر
- کس کی چشم مست یاد آتی رہینیند آنکھوں سے مری جاتی رہیخوشی محمد ناظر
- کوئی شمع اور کوئی پروانہ ہوگاجہاں میں عشق کا افسانہ ہوگاخوشی محمد ناظر
- مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنےساقیا گر تیری چشم مست کا ساغر بنےخوشی محمد ناظر
- نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرےنیاز مند کو عالم سے بے نیاز کرےخوشی محمد ناظر
- نئے نیرنگ دکھلاتا ہے یہ چرخ کہن کیا کیاجہاں میں گل کھلائے گی ابھی خاک چمن کیا کیاخوشی محمد ناظر
- یہی گر حسن کا عالم رہے گاتو زخم عشق بے مرہم رہے گاخوشی محمد ناظر
- یاران نجدخوشی محمد ناظر
- مرثیۂ سر سید ردیف یخوشی محمد ناظر
- ہمدمو لطف شبانہ ہو چکاعیش و عشرت کا زمانہ ہو چکاخوشی محمد ناظر
- اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہادل سے عرفان محبت کا اثر جاتا رہاLaxmi Narayan Farigh
- بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہےرگ گل میں نہاں برق تپاں معلوم ہوتی ہےLaxmi Narayan Farigh
- جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہےہر اک پردے سے وہ جلوہ نما ہےLaxmi Narayan Farigh
- جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نےکہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نےLaxmi Narayan Farigh
- خطا انجام ہو کر رہ گیا ہےبشر ناکام ہو کر رہ گیا ہےLaxmi Narayan Farigh
- خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئیہمیں حاصل نہ کبھی وجہ مباہات ہوئیLaxmi Narayan Farigh
- درد جب دل میں سما جاتا ہےلذت زیست بڑھا جاتا ہےLaxmi Narayan Farigh
- رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گایگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گاLaxmi Narayan Farigh
- مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیںیہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیںLaxmi Narayan Farigh
- نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہےشکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہےLaxmi Narayan Farigh
- پوروں پوروں زخم ہوئی ہوںخوابوں کی سیڑھی سے گری ہوںLubna Safdar
- خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیاہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیاLubna Safdar
- دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحبعشق اپنا مزاج ہے صاحبLubna Safdar
- زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھاتری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھاLubna Safdar