Poetry
Poet
Meter
- شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میںمن پگھلتا ہوا سرد سی شام میںLubna Safdar
- کچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقیصورت تو حسیں ہوگی بینائی نہیں باقیLubna Safdar
- جانے کیوںمیرے لیےLubna Safdar
- گرمی کی تپتی دوپہر کی شدت ہویاLubna Safdar
- بہت جلدی تھی تم کو راستے اپنے بدلنے کیابھی تو چاہتوں کو کتنا پائیدار ہونا تھاLubna Safdar
- ہو جائے کبھی مجھ سے برہم وہ نہیں چاہاہو جائیں سبھی جذبے مدھم وہ نہیں چاہاLubna Safdar
- چشم ملت میں مکیں کون ہے آغا شورشگوشۂ دل کے قریں کون ہے آغا شورشم حسن لطیفی
- کس کی بد گمانی پرم حسن لطیفی
- حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تمخاک میں جان ڈال کر خاک اڑا رہے ہو تمم حسن لطیفی
- غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتامیں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتام حسن لطیفی
- دعا (م حسن لطیفی)م حسن لطیفی
- مجھے بھول جاؤم حسن لطیفی
- رشحاتم حسن لطیفی
- مشربم حسن لطیفی
- امروزم حسن لطیفی
- نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دورمنزل ہے شناسائی منزل سے بہت دورم حسن لطیفی
- خیال نطق سے بیگانہ ہو تو کیا کہئےلب خموش ہی افسانہ ہو تو کیا کہئےمحمد صادق ضیا
- یاد ہے آہ کا وہ رنگ نوا ہو جانایوں فضاؤں میں سمٹنا کہ گھٹا ہو جانامحمد صادق ضیا
- آج اپنے دل سے پھر الجھا ہوں میںمدعا یہ ہے کہ دیکھوں کیا ہوں میںمحمد صادق ضیا
- آغا حشر کاشمیریمحمد صادق ضیا
- پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہوناشمع سے سیکھ شریک غم محفل ہونامحمد صادق ضیا
- تاجمحمد صادق ضیا
- سرسید کے مزار پرمحمد صادق ضیا
- کوئی یہ اقبالؔ سے جا کر ذرا پوچھے ضیاؔمدتوں سے کیوں تری بانگ درا خاموش ہےمحمد صادق ضیا
- مرزا غالبؔمحمد صادق ضیا
- یہ چڑیاں چہچہاتی ہیں تو ان کو چہچہانے دوپرندوں کو درختوں پر خوشی کے گیت گانے دومحمد صادق ضیا
- باغ میں آمد بہار ہے آجچشم نرگس کو انتظار ہے آجمیر مظفر حسین ضمیر
- بستر نرم پر وہ سوتا ہےیاں پس خیمہ کوئی روتا ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووےمیری شب غم سحر نہ ہووےمیر مظفر حسین ضمیر
- جب کہ فرقت میں موت آتی ہےحسرت وصل ساتھ جاتی ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- چشم کو شوق اشک باری ہےچشمۂ فیض ہے کہ جاری ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئیاوروں کی تو کیا چشم مسیحا کی بھر آئیمیر مظفر حسین ضمیر
- سب شکایت ہے زندگانی کیجان نے دشمنیٔ جانی کیمیر مظفر حسین ضمیر
- صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئییہ شام نہیں آئی قضا ہی مگر آئیمیر مظفر حسین ضمیر
- ہم رہے یاں تلک ترے غم میںکہ ترا غم سما گیا ہم میںمیر مظفر حسین ضمیر
- کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہےجس نور سے پر نور یہ نور نظری ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- آپ نے جو گرا دئے آنسوہم نے موتی بنا دئے آنسوNadeem Ajmal Adeem
- تری چوکھٹ پہ رہنے کا جو دل ارمان چھوڑےپرندہ پھول کے عارض پہ کیوں مسکان چھوڑےNadeem Ajmal Adeem
- جیسا دکھتا ہوں اگر ویسا نہیںمیں بھی کوئی آدمی اچھا نہیںNadeem Ajmal Adeem
- چمکتی روشنی نے ماہتاب بند کر دیاکسی نے چشم تر میں جیسے خواب بند کر دیاNadeem Ajmal Adeem
- دعا کو ہاتھوں میں لے کر گھما کے چھوڑ دیاکہ جیسے مجھ کو خدا نے بنا کے چھوڑ دیاNadeem Ajmal Adeem
- سفر ہی کرنا ہے لازم تو مت تھکان گرازمیں لپیٹ مرے سر پہ آسمان گراNadeem Ajmal Adeem
- عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیاعدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیاNadeem Ajmal Adeem
- کھو دیا ہے ایک ایسا آدمیسب جسے کہتے تھے اچھا آدمیNadeem Ajmal Adeem
- مت مری پوشاک پر دھبہ لگارنگ بھرنا ہے تو پھر اچھا لگاNadeem Ajmal Adeem
- ہم جو کسی پہاڑ پر اپنی دعا اتارتےکرتے کلام بعد میں پہلے خدا اتارتےNadeem Ajmal Adeem
- اور تیری تو کسی بات سے انکار نہیںوہ جو ہر بار ہوا ہے وہی اس بار نہیںNaeem Sameer
- ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں حد نظر تکہم کو تو پہنچنا تھا کسی خواب نگر تکNaeem Sameer
- بستر کرب پہ جب نیند جلائی میں نےتب کسی خواب کی بنیاد اٹھائی میں نےNaeem Sameer
- بہت شاداب ہو لیکن بیابانی نہیں جاتیکہ بام اوج چھونے سے بھی ارزانی نہیں جاتیNaeem Sameer