Poetry
Poet
Meter
- تاویل عہد فن ہی تو وحشت کا حل نہیںپیش نظر جنون ہے یارو غزل نہیںNaeem Sameer
- جو کچھ دیکھا اور سمجھا ہے نذر لوح و قلم کرتا ہوںیعنی چشم حیرت پر میں سچے خواب رقم کرتا ہوںNaeem Sameer
- خامشی کے بطن سے یہ گفتنی پیدا ہوئیمیں بظاہر چپ ہوا اور شاعری پیدا ہوئیNaeem Sameer
- ذات میں موجود موجوں کی روانی سے اٹھازندگی کا لطف طرز زندگانی سے اٹھاNaeem Sameer
- قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھیخواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھیNaeem Sameer
- کچھ دل نشیں یادیں بھی ہیں کچھ درد کا رشتہ بھی ہےمیں کس طرح بھولوں اسے وہ عمر کا حصہ بھی ہےNaeem Sameer
- اے صبا کہہ بہار کی باتیںاس بت گل عذار کی باتیںNaji Shakir
- تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسیمجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثیNaji Shakir
- دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کوجیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کوNaji Shakir
- دیکھ موہن تری کمر کی طرفپھر گیا مانی اپنے گھر کی طرفNaji Shakir
- دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میںہنسنے سیں اوس سجن کے تھا شور مے کدے میںNaji Shakir
- ذکر ہر صبح و شام ہے تیراورد عاشق کوں نام ہے تیراNaji Shakir
- کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتیکہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتیNaji Shakir
- لب شیریں ہے مصری یوسف ثانی ہے یہ لڑکانہ چھوڑے گا میرا دل چاہ کنعانی ہے یہ لڑکاNaji Shakir
- مہ رخاں کی جو مہربانی ہےیہ مدد مجھ پہ آسمانی ہےNaji Shakir
- یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاںکہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاںNaji Shakir
- آئے جو میرے دل کو تو صبر و قرار کیااس بے وفا کے قول کا ہے اعتبار کیاPaikan Chandpuri
- ان کو دیکھا جو اک نظر ہم نےدل سنبھالا کبھی جگر ہم نےPaikan Chandpuri
- باغباں بد گماں نہ ہو جائےدشمن آشیاں نہ ہو جائےPaikan Chandpuri
- چین دل کو نہ آئے گا کب تکوہ مجھے یوں ستائے گا کب تکPaikan Chandpuri
- دل کو صبر و قرار تم سے ہےزندگی خوش گوار تم سے ہےPaikan Chandpuri
- لبوں پہ لالہ و گل کے وہ اب ہنسی نہ رہینسیم صبح کے جھونکوں میں تازگی نہ رہیPaikan Chandpuri
- نقاب رخ سے اٹھاؤ بہت اداس ہے راتجمال اپنا دکھاؤ بہت اداس ہے راتPaikan Chandpuri
- نہ اتراؤ چمن والوں حسیں پھولوں کے جوبن پررہا کرتی ہے رنگینی فقط دو روز گلشن پرPaikan Chandpuri
- ہجر کے کچھ حالات تو سن لوروداد آفات تو سن لوPaikan Chandpuri
- ہجوم غم کو ہم تو زیست کا حاصل سمجھتے ہیںیہ الفاظ دگر طوفان کو ساحل سمجھتے ہیںPaikan Chandpuri
- بجھا بجھا سا گل تر دکھائی دیتا ہےعجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہےParvez Anjum
- بد بختی میں سب بے مولہیرے چن یا موتی رولParvez Anjum
- پوجنے والے سبھی لوگ ہیں فرزانے کوپوچھتا کون ہے اس شہر میں دیوانے کوParvez Anjum
- تری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہےجو میرے چہرے پہ دل نے حساب لکھا ہےParvez Anjum
- حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئےاشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئےParvez Anjum
- سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیاجس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیاParvez Anjum
- سب ہیں محتاج فقط ایک خدا دیتا ہےمانگ کے دیکھ وہ دامن سے سوا دیتا ہےParvez Anjum
- کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہےمحنتی ہاتھ کے حصے میں ثمر ہوتا ہےParvez Anjum
- کس چمن پہ گرنا ہے بجلیاں سمجھتی ہیںشاخ گل کی طاقت کو آندھیاں سمجھتی ہیںParvez Anjum
- ہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کرمجھ کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کرParvez Anjum
- اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میںکچھ روز تو رہنا ہے اسی راہ گزر میںQaisar Abbas
- اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگےواپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگےQaisar Abbas
- تم وقت سحر روزن دیوار میں دیکھولالی سی کہیں صبح کے آثار میں دیکھوQaisar Abbas
- خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہوگاخوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہوگاQaisar Abbas
- شہر کی رسم ہے پرانی وہیسازشیں تازہ ہیں کہانی وہیQaisar Abbas
- صبح دم آجمری نیند بھری آنکھQaisar Abbas
- مرے گھر کی دیوار پرعہد رفتہ کےQaisar Abbas
- ہماری سب لکیریںدائروں میں گھومتی ہیںQaisar Abbas
- آسمانوں سے اتریاجنبی مخلوقQaisar Abbas
- کانپتے ہاتھ مرےایک دعا کو اٹھےQaisar Abbas
- آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیاہجر کی شام کو سحر نہ کیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہومیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہوRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیںمری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar