Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تاویل عہد فن ہی تو وحشت کا حل نہیںپیش نظر جنون ہے یارو غزل نہیںNaeem Sameer
  2. جو کچھ دیکھا اور سمجھا ہے نذر لوح و قلم کرتا ہوںیعنی چشم حیرت پر میں سچے خواب رقم کرتا ہوںNaeem Sameer
  3. خامشی کے بطن سے یہ گفتنی پیدا ہوئیمیں بظاہر چپ ہوا اور شاعری پیدا ہوئیNaeem Sameer
  4. ذات میں موجود موجوں کی روانی سے اٹھازندگی کا لطف طرز زندگانی سے اٹھاNaeem Sameer
  5. قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھیخواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھیNaeem Sameer
  6. کچھ دل نشیں یادیں بھی ہیں کچھ درد کا رشتہ بھی ہےمیں کس طرح بھولوں اسے وہ عمر کا حصہ بھی ہےNaeem Sameer
  7. اے صبا کہہ بہار کی باتیںاس بت گل عذار کی باتیںNaji Shakir
  8. تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسیمجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثیNaji Shakir
  9. دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کوجیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کوNaji Shakir
  10. دیکھ موہن تری کمر کی طرفپھر گیا مانی اپنے گھر کی طرفNaji Shakir
  11. دیکھی بہار ہم نے کل زور مے کدے میںہنسنے سیں اوس سجن کے تھا شور مے کدے میںNaji Shakir
  12. ذکر ہر صبح و شام ہے تیراورد عاشق کوں نام ہے تیراNaji Shakir
  13. کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتیکہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتیNaji Shakir
  14. لب شیریں ہے مصری یوسف ثانی ہے یہ لڑکانہ چھوڑے گا میرا دل چاہ کنعانی ہے یہ لڑکاNaji Shakir
  15. مہ رخاں کی جو مہربانی ہےیہ مدد مجھ پہ آسمانی ہےNaji Shakir
  16. یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاںکہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاںNaji Shakir
  17. آئے جو میرے دل کو تو صبر و قرار کیااس بے وفا کے قول کا ہے اعتبار کیاPaikan Chandpuri
  18. ان کو دیکھا جو اک نظر ہم نےدل سنبھالا کبھی جگر ہم نےPaikan Chandpuri
  19. باغباں بد گماں نہ ہو جائےدشمن آشیاں نہ ہو جائےPaikan Chandpuri
  20. چین دل کو نہ آئے گا کب تکوہ مجھے یوں ستائے گا کب تکPaikan Chandpuri
  21. دل کو صبر و قرار تم سے ہےزندگی خوش گوار تم سے ہےPaikan Chandpuri
  22. لبوں پہ لالہ و گل کے وہ اب ہنسی نہ رہینسیم صبح کے جھونکوں میں تازگی نہ رہیPaikan Chandpuri
  23. نقاب رخ سے اٹھاؤ بہت اداس ہے راتجمال اپنا دکھاؤ بہت اداس ہے راتPaikan Chandpuri
  24. نہ اتراؤ چمن والوں حسیں پھولوں کے جوبن پررہا کرتی ہے رنگینی فقط دو روز گلشن پرPaikan Chandpuri
  25. ہجر کے کچھ حالات تو سن لوروداد آفات تو سن لوPaikan Chandpuri
  26. ہجوم غم کو ہم تو زیست کا حاصل سمجھتے ہیںیہ الفاظ دگر طوفان کو ساحل سمجھتے ہیںPaikan Chandpuri
  27. بجھا بجھا سا گل تر دکھائی دیتا ہےعجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہےParvez Anjum
  28. بد بختی میں سب بے مولہیرے چن یا موتی رولParvez Anjum
  29. پوجنے والے سبھی لوگ ہیں فرزانے کوپوچھتا کون ہے اس شہر میں دیوانے کوParvez Anjum
  30. تری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہےجو میرے چہرے پہ دل نے حساب لکھا ہےParvez Anjum
  31. حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئےاشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئےParvez Anjum
  32. سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیاجس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیاParvez Anjum
  33. سب ہیں محتاج فقط ایک خدا دیتا ہےمانگ کے دیکھ وہ دامن سے سوا دیتا ہےParvez Anjum
  34. کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہےمحنتی ہاتھ کے حصے میں ثمر ہوتا ہےParvez Anjum
  35. کس چمن پہ گرنا ہے بجلیاں سمجھتی ہیںشاخ گل کی طاقت کو آندھیاں سمجھتی ہیںParvez Anjum
  36. ہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کرمجھ کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کرParvez Anjum
  37. اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میںکچھ روز تو رہنا ہے اسی راہ گزر میںQaisar Abbas
  38. اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگےواپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگےQaisar Abbas
  39. تم وقت سحر روزن دیوار میں دیکھولالی سی کہیں صبح کے آثار میں دیکھوQaisar Abbas
  40. خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہوگاخوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہوگاQaisar Abbas
  41. شہر کی رسم ہے پرانی وہیسازشیں تازہ ہیں کہانی وہیQaisar Abbas
  42. صبح دم آجمری نیند بھری آنکھQaisar Abbas
  43. مرے گھر کی دیوار پرعہد رفتہ کےQaisar Abbas
  44. ہماری سب لکیریںدائروں میں گھومتی ہیںQaisar Abbas
  45. آسمانوں سے اتریاجنبی مخلوقQaisar Abbas
  46. کانپتے ہاتھ مرےایک دعا کو اٹھےQaisar Abbas
  47. آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  48. آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیاہجر کی شام کو سحر نہ کیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  49. اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہومیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہوRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  50. تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیںمری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar