Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہاراریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہاراRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  2. دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہےسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہےRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  3. سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیاآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  4. طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیںمظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  5. نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہواہر ورق خورشید کے مانند نور افشاں ہواRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  6. ہر زباں پر ہے گفتگو تیریہے ہر اک دل میں آرزو تیریRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  7. آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہےخواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہےRafat Shameem
  8. اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگابستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگاRafat Shameem
  9. اب طبیعت کہاں روانی میںکشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میںRafat Shameem
  10. اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نےراز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نےRafat Shameem
  11. ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیںجس کے باہر انا کے پہرے ہیںRafat Shameem
  12. ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہےنقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہےRafat Shameem
  13. جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
  14. خود کو جب سے جان گئے ہمدنیا کو پہچان گئے ہمRafat Shameem
  15. در کسی کا کھلا نہیں لگتاشہر یہ آشنا نہیں لگتاRafat Shameem
  16. کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتامیں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتاRafat Shameem
  17. اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کاباعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کاSaa’in Alig
  18. اس کو خلوت کا میری پاس نہیںکیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیںSaa’in Alig
  19. اے رب کائنات مجھے لے پناہ میںبہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میںSaa’in Alig
  20. بچھڑ کر اب ذرا آزار کھینچوتم اپنے دل میں اک دیوار کھینچوSaa’in Alig
  21. دل دکھاؤ نہ بارہا جاناںمنہ چھپاؤ نہ بارہا جاناںSaa’in Alig
  22. دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہےاب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہےSaa’in Alig
  23. شب فراق میں بھی وصل سا سرور رہارہا نہ پاس مرے وہ نہ مجھ سے دور رہاSaa’in Alig
  24. کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیامیں تھا اسیر رنج سو آزاد رہ گیاSaa’in Alig
  25. لب پہ آئی نہ میرے جی کی باتبات جب کی تو کی اسی کی باتSaa’in Alig
  26. ہوش تھا یا کوئی خمار رہادل کہ بیتاب و بے قرار رہاSaa’in Alig
  27. اس طرح دنیا کے دل میں گھر بنااپنی طرز گفتگو بہتر بناSaadat Aabidi
  28. انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میںورنہ یہ خواہشات بڑھاتا نہ تو نہ میںSaadat Aabidi
  29. تو ہے آب زندگی تو ہے شباب‌ زندگیتجھ سے ہی سب کیف ہے تو ہے شراب زندگیSaadat Aabidi
  30. چلی جانا ہے ساری آب و تاب آہستہ آہستہکہ جیسے ختم ہوتی ہے کتاب آہستہ آہستہSaadat Aabidi
  31. زندگی کی کیفیت اب یہ ہے خاص و عام کیصبح کو ہوتی ہے جو حالت چراغ شام کیSaadat Aabidi
  32. سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہےمجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہےSaadat Aabidi
  33. فضا ایسی بہ فیض باغباں معلوم ہوتی ہےبہار گلستاں مثل خزاں معلوم ہوتی ہےSaadat Aabidi
  34. گھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میںاپنی انا کا دشمن جانی نہیں ہوں میںSaadat Aabidi
  35. یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیںتجھ کو جو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیںSaadat Aabidi
  36. یہ بھوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئےکرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئےSaadat Aabidi
  37. جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہےطوفاں نے ہی ساحل کی تصویر دکھا دی ہےSabiha Sumbul
  38. حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھردکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھرSabiha Sumbul
  39. دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیںدامن تخیل پر پھول مسکراتے ہیںSabiha Sumbul
  40. دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلےدرد کے پھول بیاباں میں کھلانے نکلےSabiha Sumbul
  41. کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریںرہزنوں نے پائی ہیں رہبروں کی تقدیریںSabiha Sumbul
  42. کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرےوقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرےSabiha Sumbul
  43. گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھیدل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھیSabiha Sumbul
  44. مری زندگی کی کتاب کا ہے ہر اک ورق یوں سجا ہواکہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کہیں شوخیوں سے بھرا ہواSabiha Sumbul
  45. میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیےمرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیےSabiha Sumbul
  46. یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میںتو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میںSabiha Sumbul
  47. چاند آج کی رات نہیں نکلاوہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہےتصدق حسین خالد
  48. اعجاز تصورتصدق حسین خالد
  49. گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابراداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑتصدق حسین خالد
  50. تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہودل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہوتصدق حسین خالد