Poetry
Poet
Meter
- خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہاراریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہاراRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہےسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہےRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیاآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیںمظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہواہر ورق خورشید کے مانند نور افشاں ہواRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- ہر زباں پر ہے گفتگو تیریہے ہر اک دل میں آرزو تیریRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہےخواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہےRafat Shameem
- اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگابستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگاRafat Shameem
- اب طبیعت کہاں روانی میںکشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میںRafat Shameem
- اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نےراز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نےRafat Shameem
- ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیںجس کے باہر انا کے پہرے ہیںRafat Shameem
- ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہےنقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہےRafat Shameem
- جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
- خود کو جب سے جان گئے ہمدنیا کو پہچان گئے ہمRafat Shameem
- در کسی کا کھلا نہیں لگتاشہر یہ آشنا نہیں لگتاRafat Shameem
- کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتامیں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتاRafat Shameem
- اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کاباعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کاSaa’in Alig
- اس کو خلوت کا میری پاس نہیںکیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیںSaa’in Alig
- اے رب کائنات مجھے لے پناہ میںبہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میںSaa’in Alig
- بچھڑ کر اب ذرا آزار کھینچوتم اپنے دل میں اک دیوار کھینچوSaa’in Alig
- دل دکھاؤ نہ بارہا جاناںمنہ چھپاؤ نہ بارہا جاناںSaa’in Alig
- دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہےاب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہےSaa’in Alig
- شب فراق میں بھی وصل سا سرور رہارہا نہ پاس مرے وہ نہ مجھ سے دور رہاSaa’in Alig
- کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیامیں تھا اسیر رنج سو آزاد رہ گیاSaa’in Alig
- لب پہ آئی نہ میرے جی کی باتبات جب کی تو کی اسی کی باتSaa’in Alig
- ہوش تھا یا کوئی خمار رہادل کہ بیتاب و بے قرار رہاSaa’in Alig
- اس طرح دنیا کے دل میں گھر بنااپنی طرز گفتگو بہتر بناSaadat Aabidi
- انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میںورنہ یہ خواہشات بڑھاتا نہ تو نہ میںSaadat Aabidi
- تو ہے آب زندگی تو ہے شباب زندگیتجھ سے ہی سب کیف ہے تو ہے شراب زندگیSaadat Aabidi
- چلی جانا ہے ساری آب و تاب آہستہ آہستہکہ جیسے ختم ہوتی ہے کتاب آہستہ آہستہSaadat Aabidi
- زندگی کی کیفیت اب یہ ہے خاص و عام کیصبح کو ہوتی ہے جو حالت چراغ شام کیSaadat Aabidi
- سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہےمجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہےSaadat Aabidi
- فضا ایسی بہ فیض باغباں معلوم ہوتی ہےبہار گلستاں مثل خزاں معلوم ہوتی ہےSaadat Aabidi
- گھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میںاپنی انا کا دشمن جانی نہیں ہوں میںSaadat Aabidi
- یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیںتجھ کو جو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیںSaadat Aabidi
- یہ بھوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئےکرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئےSaadat Aabidi
- جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہےطوفاں نے ہی ساحل کی تصویر دکھا دی ہےSabiha Sumbul
- حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھردکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھرSabiha Sumbul
- دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیںدامن تخیل پر پھول مسکراتے ہیںSabiha Sumbul
- دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلےدرد کے پھول بیاباں میں کھلانے نکلےSabiha Sumbul
- کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریںرہزنوں نے پائی ہیں رہبروں کی تقدیریںSabiha Sumbul
- کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرےوقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرےSabiha Sumbul
- گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھیدل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھیSabiha Sumbul
- مری زندگی کی کتاب کا ہے ہر اک ورق یوں سجا ہواکہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کہیں شوخیوں سے بھرا ہواSabiha Sumbul
- میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیےمرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیےSabiha Sumbul
- یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میںتو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میںSabiha Sumbul
- چاند آج کی رات نہیں نکلاوہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہےتصدق حسین خالد
- اعجاز تصورتصدق حسین خالد
- گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابراداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑتصدق حسین خالد
- تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہودل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہوتصدق حسین خالد