Poetry
Poet
Meter
- شیر دل خاںمیں نے دیکھے تیس سالتصدق حسین خالد
- قرباں گاہ امنتصدق حسین خالد
- موج دریاتصدق حسین خالد
- روندتے جاؤ گزر گاہوں کوسر اٹھائے ہوئےتصدق حسین خالد
- پیام (تصدق حسین خالد)تصدق حسین خالد
- پشیمانیتصدق حسین خالد
- اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کودھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کوYaqoob Parwaz
- دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئیکس سے جا کر پتہ کرے کوئیYaqoob Parwaz
- راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میںکون جانے کہ اصل کیا ہوں میںYaqoob Parwaz
- سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگکتنے ہیں کم نگاہ مجھے مارتے ہیں لوگYaqoob Parwaz
- کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچاب ترستا ہوں میں خرکاروں کے بیچYaqoob Parwaz
- کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہےآخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہےYaqoob Parwaz
- میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بستجھ کو دیکھا چاہتا ہوں اور بسYaqoob Parwaz
- ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگگنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگYaqoob Parwaz
- ہوا کی چال چل جائے گا تو بھیخبر کیا تھی بدل جائے گا تو بھیYaqoob Parwaz
- یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلےنکلتا ہے کوئی سورج غروب شام سے پہلےYaqoob Parwaz
- آساں نہیں ہے سیل جوانی کو روکناممکن کہاں ڈھلان پہ پانی کو روکناYaqoob Saqi
- برا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتےخطا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتےYaqoob Saqi
- دنیا سب آرام کرے ہےقسمت اپنا کام کرے ہےYaqoob Saqi
- فضا میں شور تلاطم ہو رنگ و بو بھی ہوزمین شہر ستم گر لہو لہو بھی ہوYaqoob Saqi
- کسی سے بھیک میں زاد سفر نہیں لیتامیں چیخ چیخ کے داد ہنر نہیں لیتاYaqoob Saqi
- کوئی موسم ہو نظر سود و زیاں جانتی ہےبات جو دل میں ہے بیٹی کے وہ ماں جانتی ہےYaqoob Saqi
- ملا ہے وہ مجھے دل کی بدولتیہ آسانی ہے مشکل کی بدولتYaqoob Saqi
- منہ چھپائے ہوئے بھٹکے گی ہوا میرے بعدساز ہو جائے گی صحرا کی صدا میرے بعدYaqoob Saqi
- میری فکریں ہری بھری کرنااس دسمبر کو جنوری کرناYaqoob Saqi
- یا رب کبھی قبول مری یہ دعا بھی ہوتو نے بدن دیا ہے بدن پر قبا بھی ہوYaqoob Saqi
- انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھیسو بار سنایا اور سو بار کہا صاحبZafar Mehdi
- بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جاناکرشمہ ہے دل ناشاد کا یوں شاد ہو جاناZafar Mehdi
- تابش چشم تر میں رہتے ہیںعکس دیوار و در میں رہتے ہیںZafar Mehdi
- خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہوگل سے بلبل کو جہاں باہمی تکرار تو ہوZafar Mehdi
- زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئےہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئےZafar Mehdi
- محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتشتخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتشZafar Mehdi
- میرے قبضے میں لب کشائی ہےاب اسیری نہیں رہائی ہےZafar Mehdi
- میں خود کو آزمانا چاہتا ہوںہوا پر آشیانہ چاہتا ہوںZafar Mehdi
- یہ جو فطرت میں خاکساری ہےباعث فخر وضع داری ہےZafar Mehdi
- ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیںدعاؤں میں اثر جاتا رہا ہےZafar Mehdi
- ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتاکہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتاعزیز الحسن غوری
- پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیںکوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیںعزیز الحسن غوری
- جلوہ فرما دیر تک دل بر رہااپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہاعزیز الحسن غوری
- دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہےکیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہےعزیز الحسن غوری
- نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںعزیز الحسن غوری
- نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گاتقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گاعزیز الحسن غوری
- وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوںبڑا ناسزا ہوں سزا چاہتا ہوںعزیز الحسن غوری
- وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانایہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جاناعزیز الحسن غوری
- ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئیعزیز الحسن غوری
- ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیاعالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیاعزیز الحسن غوری
- پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذتجو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذتآفتاب شاہ عالم ثانی
- جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیںتیر سی دل کے پار ہوتی ہیںآفتاب شاہ عالم ثانی
- دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیںجوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیںآفتاب شاہ عالم ثانی
- عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میںکر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میںآفتاب شاہ عالم ثانی