Poetry
Poet
Meter
- کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کروکل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کروآفتاب شاہ عالم ثانی
- کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپناپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپناآفتاب شاہ عالم ثانی
- گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالیتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالیآفتاب شاہ عالم ثانی
- گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیاجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیاآفتاب شاہ عالم ثانی
- میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگےیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگےآفتاب شاہ عالم ثانی
- آرزو پہ جفا کرے کوئیپھر خفا ہو خدا کرے کوئیاحمد شاہ خاں شبنم
- آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرحسیدھا ہوا نہ اپنا مقدر کسی طرحاحمد شاہ خاں شبنم
- بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرضمطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرضاحمد شاہ خاں شبنم
- تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہےایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہےاحمد شاہ خاں شبنم
- تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیںاحمد شاہ خاں شبنم
- جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپہنس کے بولے کہ جب ملیں گے آپاحمد شاہ خاں شبنم
- جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہممل مل کے خوب روئے ہیں دیوار و در سے ہماحمد شاہ خاں شبنم
- فرد ہیں انتخاب ہیں ہم لوگآپ اپنا جواب ہیں ہم لوگاحمد شاہ خاں شبنم
- کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیراپا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرااحمد شاہ خاں شبنم
- بحث بے کار کر رہا ہوں میںجبر ناچار کر رہا ہوں میںEhsaan Sabz
- تمہارے بعد تمہارا خیال آیا ہےمیں لا جواب ہوں کیسا سوال آیا ہےEhsaan Sabz
- زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتےزمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتےEhsaan Sabz
- سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھےمحبت تھی جھمیلے تو نہیں تھےEhsaan Sabz
- کیسی تنہائی ہے نظاروں میںسانس رکتا ہے خار زاروں میںEhsaan Sabz
- کیوں خطا ہیں ترے اوسان مری جان بتاہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتاEhsaan Sabz
- لوگ پرائے ہو جاتے ہیںنہیں پلٹتے جو جاتے ہیںEhsaan Sabz
- مسکرانا چھوڑ دیںدل لگانا چھوڑ دیںEhsaan Sabz
- وہیں پر ہوں جہاں رکتا رہا ہوںمیں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوںEhsaan Sabz
- اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرامجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرافروغ حیدرآبادی
- تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہوخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہوفروغ حیدرآبادی
- دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کرچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کرفروغ حیدرآبادی
- رنگ دیکھا تری طبیعت کاہو چکا امتحاں محبت کافروغ حیدرآبادی
- غبار خاطر ناشاد ہوں میںکہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میںفروغ حیدرآبادی
- کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتیہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتیفروغ حیدرآبادی
- مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیالیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیافروغ حیدرآبادی
- وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کااب رفو مشکل سے ہوگا زخم دامن دار کافروغ حیدرآبادی
- ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھیاور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھیفروغ حیدرآبادی
- اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرےجان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرےغلام بھیک نیرنگ
- کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگیزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگیغلام بھیک نیرنگ
- کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سےان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سےغلام بھیک نیرنگ
- کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتیغلام بھیک نیرنگ
- مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کررہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کرغلام بھیک نیرنگ
- پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہیسر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہیغلام بھیک نیرنگ
- کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہوغلام بھیک نیرنگ
- مقصود الفتغلام بھیک نیرنگ
- انسان کی فریادغلام بھیک نیرنگ
- ادائیں ہیں جو اس رشک پری میںنہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میںہاجر دہلوی
- الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہواوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہواہاجر دہلوی
- رنج میں بھی شاد رہنا چاہئےیہ مقولہ یاد رہنا چاہئےہاجر دہلوی
- رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میںجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میںہاجر دہلوی
- سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیںانہی کا ذکر ہے لب پر خدا کا نام نہیںہاجر دہلوی
- عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہےمری جاں کیا یہی رسم وفا ہےہاجر دہلوی
- مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطےپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطےہاجر دہلوی
- نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہےخدا کا شکر ہے وہ مہرباں ہےہاجر دہلوی
- کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیانہیں جب ربط تو پھر مدعا کیاہاجر دہلوی