Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کروکل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کروآفتاب شاہ عالم ثانی
  2. کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپناپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپناآفتاب شاہ عالم ثانی
  3. گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالیتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالیآفتاب شاہ عالم ثانی
  4. گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیاجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیاآفتاب شاہ عالم ثانی
  5. میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگےیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگےآفتاب شاہ عالم ثانی
  6. آرزو پہ جفا کرے کوئیپھر خفا ہو خدا کرے کوئیاحمد شاہ خاں شبنم
  7. آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرحسیدھا ہوا نہ اپنا مقدر کسی طرحاحمد شاہ خاں شبنم
  8. بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرضمطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرضاحمد شاہ خاں شبنم
  9. تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہےایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہےاحمد شاہ خاں شبنم
  10. تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیںاحمد شاہ خاں شبنم
  11. جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپہنس کے بولے کہ جب ملیں گے آپاحمد شاہ خاں شبنم
  12. جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہممل مل کے خوب روئے ہیں دیوار و در سے ہماحمد شاہ خاں شبنم
  13. فرد ہیں انتخاب ہیں ہم لوگآپ اپنا جواب ہیں ہم لوگاحمد شاہ خاں شبنم
  14. کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیراپا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرااحمد شاہ خاں شبنم
  15. بحث بے کار کر رہا ہوں میںجبر ناچار کر رہا ہوں میںEhsaan Sabz
  16. تمہارے بعد تمہارا خیال آیا ہےمیں لا جواب ہوں کیسا سوال آیا ہےEhsaan Sabz
  17. زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتےزمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتےEhsaan Sabz
  18. سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھےمحبت تھی جھمیلے تو نہیں تھےEhsaan Sabz
  19. کیسی تنہائی ہے نظاروں میںسانس رکتا ہے خار زاروں میںEhsaan Sabz
  20. کیوں خطا ہیں ترے اوسان مری جان بتاہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتاEhsaan Sabz
  21. لوگ پرائے ہو جاتے ہیںنہیں پلٹتے جو جاتے ہیںEhsaan Sabz
  22. مسکرانا چھوڑ دیںدل لگانا چھوڑ دیںEhsaan Sabz
  23. وہیں پر ہوں جہاں رکتا رہا ہوںمیں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوںEhsaan Sabz
  24. اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرامجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرافروغ حیدرآبادی
  25. تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہوخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہوفروغ حیدرآبادی
  26. دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کرچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کرفروغ حیدرآبادی
  27. رنگ دیکھا تری طبیعت کاہو چکا امتحاں محبت کافروغ حیدرآبادی
  28. غبار خاطر ناشاد ہوں میںکہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میںفروغ حیدرآبادی
  29. کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتیہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتیفروغ حیدرآبادی
  30. مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیالیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیافروغ حیدرآبادی
  31. وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کااب رفو مشکل سے ہوگا زخم دامن دار کافروغ حیدرآبادی
  32. ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھیاور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھیفروغ حیدرآبادی
  33. اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرےجان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرےغلام بھیک نیرنگ
  34. کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگیزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگیغلام بھیک نیرنگ
  35. کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سےان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سےغلام بھیک نیرنگ
  36. کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتیغلام بھیک نیرنگ
  37. مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کررہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کرغلام بھیک نیرنگ
  38. پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہیسر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہیغلام بھیک نیرنگ
  39. کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہوغلام بھیک نیرنگ
  40. مقصود الفتغلام بھیک نیرنگ
  41. انسان کی فریادغلام بھیک نیرنگ
  42. ادائیں ہیں جو اس رشک پری میںنہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میںہاجر دہلوی
  43. الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہواوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہواہاجر دہلوی
  44. رنج میں بھی شاد رہنا چاہئےیہ مقولہ یاد رہنا چاہئےہاجر دہلوی
  45. رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میںجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میںہاجر دہلوی
  46. سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیںانہی کا ذکر ہے لب پر خدا کا نام نہیںہاجر دہلوی
  47. عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہےمری جاں کیا یہی رسم وفا ہےہاجر دہلوی
  48. مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطےپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطےہاجر دہلوی
  49. نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہےخدا کا شکر ہے وہ مہرباں ہےہاجر دہلوی
  50. کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیانہیں جب ربط تو پھر مدعا کیاہاجر دہلوی