Poetry
Poet
Meter
- آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیںجیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیںJalal Aarif
- اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھاب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھJalal Aarif
- بھلا ہو اس کا جو رستے میں مجھ کو ڈال گیازمانہ سنگ سمجھ کر مجھے اچھال گیاJalal Aarif
- جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھاہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھاJalal Aarif
- جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتازمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتاJalal Aarif
- دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہےدشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہےJalal Aarif
- سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہےہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہےJalal Aarif
- عشق بے خود تھا بے حجاب آیاحسن ڈالے ہوئے نقاب آیاJalal Aarif
- مجھے جسم و جاں سے نہ کر جدا مجھے ذہن و دل سے مٹا نہ دےمجھے دے کے قرب کا حوصلہ میری تشنگی کو بڑھا نہ دےJalal Aarif
- شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پروہ ہم سے روٹھ کے سونے چلے ہیں بستر پرجگر بسوانی
- شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظمے طہور کا میں وصف سن چکا واعظجگر بسوانی
- عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کاجوان ہو کے گلا کاٹنا زمانے کاجگر بسوانی
- کیا غم ہجر اٹھا کر کوئی مر جائے گاجس طرح رات کٹی دن بھی گزر جائے گاجگر بسوانی
- منظور نظر ہے دل غم خوار تمہاراجو یار ہمارا ہے وہی یار تمہاراجگر بسوانی
- یوں بہ مشکل دل مجروح سے پیکاں نکلامیں یہ سمجھا کہ ترے وصل کا ارماں نکلاجگر بسوانی
- بچھا رکھوں میں آنکھیں رہ گزر میںکبھی آ جائیں شاید میرے گھر آپجگر بسوانی
- دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گاجگر بسوانی
- جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھادیکھا بھی تو اس طرح کہ گویا نہیں دیکھاجگر بسوانی
- ان بتوں کی جو چاہ کرتے ہیںدل و دیں کو تباہ کرتے ہیںنواب امراوبہادر دلیر
- ایسے حسیں کے عشق میں ہے بے قرار دلصدقے ہیں جس کی ایک ادا پر ہزار دلنواب امراوبہادر دلیر
- اے دل ہوا ہے جیسے مرے دل کو تو پسندآیا کوئی حسین نہ ترے روبرو پسندنواب امراوبہادر دلیر
- چلتا ہے آفتاب کا دور اس قمر کے ساتھہم عیب بھی جو کرتے ہیں تو اک ہنر کے ساتھنواب امراوبہادر دلیر
- خیال اتنا ستم ایجاد رکھناوفائیں کچھ ہماری یاد رکھنانواب امراوبہادر دلیر
- سامنا ہے نگاہ قاتل کادیکھنا حوصلہ مرے دل کانواب امراوبہادر دلیر
- کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہدیتا ہے مزہ عشق کا غم اور زیادہنواب امراوبہادر دلیر
- گزارے ہجر میں برسوں ہی وصل یار کے بعداٹھایا جبر بہت ہم نے اختیار کے بعدنواب امراوبہادر دلیر
- انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کاشیدا ہی ہوا پھر دل دیوانہ کسی کانواب امراوبہادر دلیر
- بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہےآج کل گرمئ گفتار سے ڈر لگتا ہےParmod Lal Yakta
- بے زباں بھی تھا با زبان بھی تھاکچھ خموشی تھی کچھ بیان بھی تھاParmod Lal Yakta
- دنیائے حسن و عشق کا الٹا حساب ہےنا کامیاب ہے جو یہاں کامیاب ہےParmod Lal Yakta
- زمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگستم کشان غم روزگار ہیں ہم لوگParmod Lal Yakta
- زندگی کی راہوں میں تم ہو جلوہ گر تنہاظلمتیں ہیں ہر جانب شمع رہ گزر تنہاParmod Lal Yakta
- فقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتییہ جاتے جاتے جاتی ہے بہ آسانی نہیں جاتیParmod Lal Yakta
- مناتے رہیے ماتم زندگی کانیا انداز ہے یہ خودکشی کاParmod Lal Yakta
- وہی سب سے مقدس مدعا ہےجو اب تک ان کہا ہے ان سنا ہےParmod Lal Yakta
- ہم رند خرابات کو اچھا نہ برا یادساقی کا کہا یاد نہ واعظ کا کہا یادParmod Lal Yakta
- اس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہےجو سوزش پنہاں سے پریشان نہیں ہےRafeeq Anjum
- در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئیبچے بڑے ہوئے تو ضرورت بدل گئیRafeeq Anjum
- دیکھ اپنا خیال کر باباہو گئی رات جا تو گھر باباRafeeq Anjum
- رات ہے کالی گھٹا ہے اور میںپر خطر یہ راستہ ہے اور میںRafeeq Anjum
- راہ ضد کی نہ اختیار کروسچی باتوں پہ اعتبار کروRafeeq Anjum
- شریفوں سے رفاقت میں تو غفلت ہم نہیں کرتےکسی کم ظرف سے ملنے کی چاہت ہم نہیں کرتےRafeeq Anjum
- منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتےمجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےRafeeq Anjum
- وقت کی رفتار کو پرکھا کروبند ہر جھگڑے کا دروازہ کروRafeeq Anjum
- یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتےوطن سے ہم کسی قیمت پہ غداری نہیں کرتےRafeeq Anjum
- آدمی آدمی سے ملتے ہیںآپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیںراغب بدایونی
- ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوالگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہواراغب بدایونی
- ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئیجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئیراغب بدایونی
- بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعدآپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعدراغب بدایونی
- جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گارنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گاراغب بدایونی