Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیںجیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیںJalal Aarif
  2. اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھاب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھJalal Aarif
  3. بھلا ہو اس کا جو رستے میں مجھ کو ڈال گیازمانہ سنگ سمجھ کر مجھے اچھال گیاJalal Aarif
  4. جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھاہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھاJalal Aarif
  5. جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتازمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتاJalal Aarif
  6. دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہےدشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہےJalal Aarif
  7. سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہےہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہےJalal Aarif
  8. عشق بے خود تھا بے حجاب آیاحسن ڈالے ہوئے نقاب آیاJalal Aarif
  9. مجھے جسم و جاں سے نہ کر جدا مجھے ذہن و دل سے مٹا نہ دےمجھے دے کے قرب کا حوصلہ میری تشنگی کو بڑھا نہ دےJalal Aarif
  10. شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پروہ ہم سے روٹھ کے سونے چلے ہیں بستر پرجگر بسوانی
  11. شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظمے طہور کا میں وصف سن چکا واعظجگر بسوانی
  12. عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کاجوان ہو کے گلا کاٹنا زمانے کاجگر بسوانی
  13. کیا غم ہجر اٹھا کر کوئی مر جائے گاجس طرح رات کٹی دن بھی گزر جائے گاجگر بسوانی
  14. منظور نظر ہے دل غم خوار تمہاراجو یار ہمارا ہے وہی یار تمہاراجگر بسوانی
  15. یوں بہ مشکل دل مجروح سے پیکاں نکلامیں یہ سمجھا کہ ترے وصل کا ارماں نکلاجگر بسوانی
  16. بچھا رکھوں میں آنکھیں رہ گزر میںکبھی آ جائیں شاید میرے گھر آپجگر بسوانی
  17. دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گاجگر بسوانی
  18. جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھادیکھا بھی تو اس طرح کہ گویا نہیں دیکھاجگر بسوانی
  19. ان بتوں کی جو چاہ کرتے ہیںدل و دیں کو تباہ کرتے ہیںنواب امراوبہادر دلیر
  20. ایسے حسیں کے عشق میں ہے بے قرار دلصدقے ہیں جس کی ایک ادا پر ہزار دلنواب امراوبہادر دلیر
  21. اے دل ہوا ہے جیسے مرے دل کو تو پسندآیا کوئی حسین نہ ترے روبرو پسندنواب امراوبہادر دلیر
  22. چلتا ہے آفتاب کا دور اس قمر کے ساتھہم عیب بھی جو کرتے ہیں تو اک ہنر کے ساتھنواب امراوبہادر دلیر
  23. خیال اتنا ستم ایجاد رکھناوفائیں کچھ ہماری یاد رکھنانواب امراوبہادر دلیر
  24. سامنا ہے نگاہ قاتل کادیکھنا حوصلہ مرے دل کانواب امراوبہادر دلیر
  25. کیوں ہو نہ ہمیں عشق صنم اور زیادہدیتا ہے مزہ عشق کا غم اور زیادہنواب امراوبہادر دلیر
  26. گزارے ہجر میں برسوں ہی وصل یار کے بعداٹھایا جبر بہت ہم نے اختیار کے بعدنواب امراوبہادر دلیر
  27. انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کاشیدا ہی ہوا پھر دل دیوانہ کسی کانواب امراوبہادر دلیر
  28. بات بڑھ جانے کے آثار سے ڈر لگتا ہےآج کل گرمئ گفتار سے ڈر لگتا ہےParmod Lal Yakta
  29. بے زباں بھی تھا با زبان بھی تھاکچھ خموشی تھی کچھ بیان بھی تھاParmod Lal Yakta
  30. دنیائے حسن و عشق کا الٹا حساب ہےنا کامیاب ہے جو یہاں کامیاب ہےParmod Lal Yakta
  31. زمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگستم کشان غم روزگار ہیں ہم لوگParmod Lal Yakta
  32. زندگی کی راہوں میں تم ہو جلوہ گر تنہاظلمتیں ہیں ہر جانب شمع رہ گزر تنہاParmod Lal Yakta
  33. فقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتییہ جاتے جاتے جاتی ہے بہ آسانی نہیں جاتیParmod Lal Yakta
  34. مناتے رہیے ماتم زندگی کانیا انداز ہے یہ خودکشی کاParmod Lal Yakta
  35. وہی سب سے مقدس مدعا ہےجو اب تک ان کہا ہے ان سنا ہےParmod Lal Yakta
  36. ہم رند خرابات کو اچھا نہ برا یادساقی کا کہا یاد نہ واعظ کا کہا یادParmod Lal Yakta
  37. اس دور میں ایسا کوئی انسان نہیں ہےجو سوزش پنہاں سے پریشان نہیں ہےRafeeq Anjum
  38. در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئیبچے بڑے ہوئے تو ضرورت بدل گئیRafeeq Anjum
  39. دیکھ اپنا خیال کر باباہو گئی رات جا تو گھر باباRafeeq Anjum
  40. رات ہے کالی گھٹا ہے اور میںپر خطر یہ راستہ ہے اور میںRafeeq Anjum
  41. راہ ضد کی نہ اختیار کروسچی باتوں پہ اعتبار کروRafeeq Anjum
  42. شریفوں سے رفاقت میں تو غفلت ہم نہیں کرتےکسی کم ظرف سے ملنے کی چاہت ہم نہیں کرتےRafeeq Anjum
  43. منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتےمجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےRafeeq Anjum
  44. وقت کی رفتار کو پرکھا کروبند ہر جھگڑے کا دروازہ کروRafeeq Anjum
  45. یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتےوطن سے ہم کسی قیمت پہ غداری نہیں کرتےRafeeq Anjum
  46. آدمی آدمی سے ملتے ہیںآپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیںراغب بدایونی
  47. ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوالگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہواراغب بدایونی
  48. ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئیجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئیراغب بدایونی
  49. بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعدآپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعدراغب بدایونی
  50. جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گارنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گاراغب بدایونی