Poetry
Poet
Meter
- دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریکخود اذیت خود اذیت میں شریکراغب بدایونی
- نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہوناابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہوناراغب بدایونی
- نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئیخدا خدا کہے کوئی کہ رام رام کوئیراغب بدایونی
- واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کانام ہے دیدار حسرت حسرت دیدار کاراغب بدایونی
- بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیےجو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیےشیخ علی بخش بیمار
- دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیاالاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیاشیخ علی بخش بیمار
- دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کرسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کرشیخ علی بخش بیمار
- رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گےاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گےشیخ علی بخش بیمار
- فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہےبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہےشیخ علی بخش بیمار
- کون برہم ہے زلف جاناں سےتنگ ہوں خاطر پریشاں سےشیخ علی بخش بیمار
- کون دنیا سے بادہ خوار اٹھاچشم تر ابر نو بہار اٹھاشیخ علی بخش بیمار
- کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گراگل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گراشیخ علی بخش بیمار
- نہ کہو اعتبار ہے کس کابے وفائی شعار ہے کس کاشیخ علی بخش بیمار
- گریباں سے ترے کس نے نکالا صبح خنداں کوکیا کس نے نہاں دامن کی کلیوں سے گلستاں کووحید الدین سلیم
- مدت ہوئی ہے مدح حسیناں کئے ہوئےنور سخن سے دل کو چراغاں کئے ہوئےوحید الدین سلیم
- حسن کی زبان سےوحید الدین سلیم
- زندگیوحید الدین سلیم
- دعوت انقلابوحید الدین سلیم
- آریوں کی پہلی آمد ہندوستان میںوحید الدین سلیم
- عہد میر کی زبانوحید الدین سلیم
- میر کی شاعریوحید الدین سلیم
- اردو شاعری کا مطالعہوحید الدین سلیم
- اجالوں کی نمائش ہو رہی ہےاندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہےاختر علی اختر
- تم نے دیوانہ کیا اچھا ہواہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوااختر علی اختر
- حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نےترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نےاختر علی اختر
- دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایاکیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کااختر علی اختر
- دل و جاں ہم نثار کرتے ہیںوہ نگاہوں سے وار کرتے ہیںاختر علی اختر
- فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہےنقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہےاختر علی اختر
- خواب آسودگی سنہرا ہےزندگی پر تو سخت پہرا ہےاختر علی اختر
- زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفایعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھاختر علی اختر
- آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیادشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہےکیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہےانوری جہاں بیگم حجاب
- کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونالبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہوناانوری جہاں بیگم حجاب
- کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیاہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمدخدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمدانوری جہاں بیگم حجاب
- مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینالگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دیناانوری جہاں بیگم حجاب
- وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیںتو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیںانوری جہاں بیگم حجاب
- عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمالجلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کرانوری جہاں بیگم حجاب
- پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلباب نکل جائے گا مرا مطلببشیر الدین احمد دہلوی
- جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپنہیں معلوم کب ملیں گے آپبشیر الدین احمد دہلوی
- چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیایہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیابشیر الدین احمد دہلوی
- ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہےدل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہےنکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھکاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھبشیر الدین احمد دہلوی
- ہے دنیا میں زباں میری اگر بندمگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بندبشیر الدین احمد دہلوی
- وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میریکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کربشیر الدین احمد دہلوی
- افق سایہ سفر دھوکا قدم کرتببس اک ٹھوکر ہے اور یہ گرد زار شبChandra Parkash Shad
- بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھاہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھاChandra Parkash Shad
- پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنےسب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنےChandra Parkash Shad
- دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائےزینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائےChandra Parkash Shad