Poetry
Poet
Meter
- سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائےکہاں تک جانے گرد گم رہی جائےChandra Parkash Shad
- کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیاہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیاChandra Parkash Shad
- کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہمشاخ سے جیسے پھل ٹوٹے کچھ یوں لہرائے ہمChandra Parkash Shad
- ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنیاور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنیChandra Parkash Shad
- ان کے ملنے کا بظاہر تو یقیں کوئی نہیںوہ اگر چاہیں کوئی شک ہے نہیں کوئی نہیںDamodar Thakur Zaki
- بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکاتری نظر میں مرا پیار پیار ہو نہ سکاDamodar Thakur Zaki
- عالم سجدہ ہے میرا ایک عالم نور کاسجدہ گہ پر میری دھوکا ہو رہا ہے طور کاDamodar Thakur Zaki
- لے لیا وعدہ ان کے آنے کااب مقدر غریب خانے کاDamodar Thakur Zaki
- نظر بن کر تجلی جلوہ گر ہےجہاں بے ساختہ سجدے میں سر ہےDamodar Thakur Zaki
- نقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہماکثر گزر گئے ہیں تری رہ گزر سے ہمDamodar Thakur Zaki
- وہ سامنے ہوں اور نظر کو خبر نہ ہوبرباد اس قدر بھی شعور نظر نہ ہوDamodar Thakur Zaki
- ہم رنگ و ہم خیال مرا دل نہیں رہامیں دل کے اور دل مرے قابل نہیں رہاDamodar Thakur Zaki
- اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سےروشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سےDeedar Bastawi
- ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیامال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیاDeedar Bastawi
- دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیںاب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیںDeedar Bastawi
- رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کرمیرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کرDeedar Bastawi
- شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیںاس روز قیامت سے پہلے اک اور قیامت ٹھیک نہیںDeedar Bastawi
- مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئےہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئےDeedar Bastawi
- ندی پہاڑ سمندر چٹان کچھ بھی نہیںجواں ہو عزم تو پھر آسمان کچھ بھی نہیںDeedar Bastawi
- ہمارے زخم کا بھرنا بہت ضروری ہےاب اقتدار میں حصہ بہت ضروری ہےDeedar Bastawi
- ان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروںہر دم انہیں کی یاد ستائے تو کیا کروںEhsan Akhtar Ghazipuri
- ان کے ہونٹوں پہ کیوں ہنسی کم ہےکیا مری آنکھ میں نمی کم ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- پینے پہ لگا کر پابندی دشنام کی باتیں کرتے ہیںیہ زاہد و عابد مسجد میں خود جام کی باتیں کرتے ہیںEhsan Akhtar Ghazipuri
- جب لڑکپن شباب تک پہنچامنزل آفتاب تک پہنچاEhsan Akhtar Ghazipuri
- چشم ساقی اگر سلامت ہےساغر و مے کی کیا ضرورت ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- غنچہ و گل کی جستجو نہ رہیدل میں اب کوئی آرزو نہ رہیEhsan Akhtar Ghazipuri
- قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہےخدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- نہ حرم کی مجھ کو ہے جستجو نہ تو رہ گزر کی تلاش ہےجہاں سر جھکا کے ملے سکوں اسی سنگ در کی تلاش ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- برسر روزگار تھے پہلےہم بھی یاروں کے یار تھے پہلےFaheem Amrohvi
- تم جو ہو پاس تو کمی کیا ہےتم نہ ہو تو یہ زندگی کیا ہےFaheem Amrohvi
- دن تو جوں توں چلو گزر جائےنگھرا رات میں کدھر جائےFaheem Amrohvi
- ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دےگویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دےFaheem Amrohvi
- رات کٹی ہے روتے روتےغم کا بوجھا ڈھوتے ڈھوتےFaheem Amrohvi
- سوچتا ہوں کدھر گئے ہم لوگجی رہے ہیں کہ مر گئے ہم لوگFaheem Amrohvi
- غم کی گر چاشنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیFaheem Amrohvi
- ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاںبات وہ ہے جو ان کہی ہے میاںFaheem Amrohvi
- بتاؤں کیا شب فرقت میری کیسے سنورتی ہےکبھی تو ہوک اٹھتی ہے کبھی رو رو گزرتی ہےGham Bijnori
- تجھے کیا بتاؤں اے دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےمجھے جستجو ہے فقط تری مجھے صرف تیرا خیال ہےGham Bijnori
- دوستی حسن و محبت میں مگر ہوتی ہےزندگی خار کی پھولوں میں بسر ہوتی ہےGham Bijnori
- کسی صورت مقدر سے پریشانی نہیں جاتیحقیقت وہ حقیقت ہے کہ جو جانی نہیں جاتیGham Bijnori
- کسی کے بھول جانے سے محبت کم نہیں ہوتیمحبت غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتیGham Bijnori
- کہیں بھی جاؤں پر مجھ کو سکون دل نہیں ملتانہیں ملتا مجھے وہ نقشۂ قاتل نہیں ملتاGham Bijnori
- لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںاک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میںGham Bijnori
- مرا یہ جذبۂ دل کم نہیں ہےمری حسرت میں اب تک خم نہیں ہےGham Bijnori
- درد بھی اس نے دیا عشق کے پیغام کے ساتھپی لیا زہر ہلاہل مئے گلفام کے ساتھHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- دلوں سے جب دور ہوگی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گیجہاں سے تاریکیاں مٹیں گی قدم قدم روشنی ملے گیHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- کچھ غم زیست کے آلام ابھی باقی ہیںزندگی تیرے لئے کام ابھی باقی ہیںHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- کس قدر میلا دل کا درپن ہےآدمی آدمی کا دشمن ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- محو حیرت ہوں کہ آخر یہ تماشہ کیا ہےصبح خود پوچھ رہی ہے کہ اجالا کیا ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- نمود صبح پر یوں اعتبار شام آتا ہےکہ جیسے بعد فصل گل خزاں کا نام آتا ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi