Poetry
Poet
Meter
- اردو ہمارے دیش کی شیریں زبان ہےتہذیب کی ہے وضع شرافت کی جان ہےHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- دھرم و جاتی واد کے جھگڑے مٹا کر ایک بارآؤ ہم مل کر محبت سے گلے سب سے ملیںHabeeb Ahmad Anjum Datiavi
- ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہراجو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرا کتاب ٹھہراHabeeb Saifi
- برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلےرہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلےHabeeb Saifi
- فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتےکہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتےHabeeb Saifi
- کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہےہمیں اپنے بزرگوں کی شرافت یاد آتی ہےHabeeb Saifi
- کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھاترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھاHabeeb Saifi
- کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگاہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگاHabeeb Saifi
- لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیںملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیںHabeeb Saifi
- یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہکرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہHabeeb Saifi
- تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہےدنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہےہجر ناظم علی خان
- ستم تیر نگاہ دل ربا تھاہمارے حق میں پیغام قضا تھاہجر ناظم علی خان
- شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہاکہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہاہجر ناظم علی خان
- کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہامجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہاہجر ناظم علی خان
- وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گاتو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گاہجر ناظم علی خان
- وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوںکیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوںہجر ناظم علی خان
- دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیااک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیاہجر ناظم علی خان
- مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھایہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھاہجر ناظم علی خان
- پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شرابمجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شرابحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکیمرے مدعا پر نہیں ہو چکیحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیادل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیاحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گیموت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گیحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئےہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئےحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- گداز دل سے پروانہ ہوا خاکجیا بے سوز میں تو کیا جیا خاکحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہوکتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہوحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہواگر جاں ہو عزیز اپنی تو جاناں پر فدا کیوں ہوحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- اپنا رستہ بدل کے دیکھ تو لوتم مرے ساتھ چل کے دیکھ تو لوIbrahim Faiz
- اے غم تجھی سے کیوں نہ خوشی مستعار لوںدو دن کی زندگی ہے تو ہنس کر گزار لوںIbrahim Faiz
- بدلا ہوا سا رنگ گلستاں ہے ان دنوںہم پر بہار تو ترا احساں ہے ان دنوںIbrahim Faiz
- جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہےپل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہےIbrahim Faiz
- دل کے سب ارمان گئےگھر کے سب مہمان گئےIbrahim Faiz
- دور دنیا سے تیرگی ہوگیدل جلے گا تو روشنی ہوگیIbrahim Faiz
- کب ہوئی ختم رات یاد نہیںکیا ہوئی ان سے بات یاد نہیںIbrahim Faiz
- کیوں نہ تڑپا دے جہاں کو سوختہ جانوں کی باتمضطرب کرتی ہے انسانوں کو انسانوں کی باتIbrahim Faiz
- آئنہ پھر نکھر گیا ہے کیامیرا چہرہ اتر گیا ہے کیاLokesh Kumar Singh
- اپنی سانسوں سے ہم ڈرے کتنےزندگی کے لئے مرے کتنےLokesh Kumar Singh
- اترتی کیوں یہ ساری جا رہی ہےکہاں میری خماری جا رہی ہےLokesh Kumar Singh
- اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگایہ تبسم ہے اسے درد نے پالا ہوگاLokesh Kumar Singh
- جسم کے اس غار میں دکھتا ہے سبریت کے انبار میں دکھتا ہے سبLokesh Kumar Singh
- سکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتےمیں وہ درخت ہوں جس پر ثمر نہیں آتےLokesh Kumar Singh
- کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میںبھر چکے زخم کی دوا ہوں میںLokesh Kumar Singh
- یہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤںمیری باتیں رہیں بے شک میں فنا ہو جاؤںLokesh Kumar Singh
- پل خوشی کے تو کبھی آنکھ میں پانی دے گاوقت ہر روز نئی ایک کہانی دے گاMadhu Madhuman
- پہاڑوں سے راہ سفر پر اکیلےنکلتے ہیں دریا سراسر اکیلےMadhu Madhuman
- پیرہن جسم پہ اور منہ میں نوالا ہوتاکاش ہر شخص کے آنگن میں اجالا ہوتاMadhu Madhuman
- چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئیہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئیMadhu Madhuman
- کچھ اس قدر طویل تھا وہ دور انتظار کاکہ رفتہ رفتہ بجھ گیا چراغ دل میں پیار کاMadhu Madhuman
- کسی کی خامیوں کا تذکرہ نہیں کرتےیوں اپنے آپ کو چھوٹا کیا نہیں کرتےMadhu Madhuman
- ماضی کے گلستاں میں جب لے چلیں گی آنکھیںلمحوں کی خوشبوؤں سے مہکا کریں گی آنکھیںMadhu Madhuman
- ہم نے خود کو کبھی بیزار نہیں ہونے دیااپنی امید کو مسمار نہیں ہونے دیاMadhu Madhuman