Poetry
Poet
Meter
- اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کاگاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کامیاں داد خاں سیاح
- ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہےہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہےمیاں داد خاں سیاح
- جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکاپھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکامیاں داد خاں سیاح
- قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دومیاں داد خاں سیاح
- کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہےطائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہےمیاں داد خاں سیاح
- نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تکمکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تکمیاں داد خاں سیاح
- ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاشجس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاشمیاں داد خاں سیاح
- کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلاگماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلامیاں داد خاں سیاح
- خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتامجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتامخمور دہلوی
- دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتیوہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتیمخمور دہلوی
- دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتاجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتامخمور دہلوی
- رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرفآنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرفمخمور دہلوی
- کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتایہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتامخمور دہلوی
- ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہےخیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہےمخمور دہلوی
- یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتےترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتےمخمور دہلوی
- تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگیجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیںمخمور دہلوی
- بے خودی آج رنگ لائی ہےبات دل کی زباں پہ آئی ہےPaikar Jafari
- جستجوئے بہار کرتا ہوںدل کو خود شرمسار کرتا ہوںPaikar Jafari
- چراغ دل جلایا کس لئے ہے شام سے پہلےخوشی اچھی نہیں ہے عشق میں انجام سے پہلےPaikar Jafari
- سوز دل سوز جگر سوز الم پایا ہےجو بھی پایا ہے ترے عشق میں کم پایا ہےPaikar Jafari
- شب وصل ہم مختصر دیکھتے ہیںادھر آنکھ جھپکی سحر دیکھتے ہیںPaikar Jafari
- نظر کو وقف غم انتظار کر نہ سکےخود اپنی ذات پہ ہم اعتبار کر نہ سکےPaikar Jafari
- یوں بھی نباہ ہم نے کیا زندگی کے ساتھاک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھPaikar Jafari
- یوں تو محروم کوئی بزم میں مے خوار نہیںہاں مگر میری طرف چشم فسوں کار نہیںPaikar Jafari
- جیسا سنا تھا ویسا ہےوہ مجھ سے بھی اچھا ہےPaikar Yazdani
- صورت کے تو اچھے لوگلیکن دل کے کالے لوگPaikar Yazdani
- کنکر کہہ نہ پتھر کہہگوہر ہے تو گوہر کہہPaikar Yazdani
- کوئی پاؤں سفر میں رکھموسم کو بستر میں رکھPaikar Yazdani
- گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہماپنوں میں ہو کے رہ گئے اک اجنبی سے ہمPaikar Yazdani
- نہیں اپنے تو بیگانے بہت ہیںجہاں میں آئنہ خانے بہت ہیںPaikar Yazdani
- ہنستے ہنستے کہہ دی باتتم نے آخر کڑوی باتPaikar Yazdani
- رنگ و نسل و مذاہب کا اعلیٰ چمنہند میرا وطن ہند میرا وطنPaikar Yazdani
- آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پرمیلہ لگا ہے پیر مغاں کی دکان پرپیر شیر محمد عاجز
- بہار آئی کر اے باغباں گلاب قلمکہ لکھے وصف رخ یار کی کتاب قلمپیر شیر محمد عاجز
- ترے ابرو پہ بل آیا تو ہوتاذرا غیروں کو دھمکایا تو ہوتاپیر شیر محمد عاجز
- جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرفکھینچا اس آب و دانہ نے صیاد کی طرفپیر شیر محمد عاجز
- غنچے کو ہے ترے دہن کی حرصسیب کو ہے ترے ذقن کی حرصپیر شیر محمد عاجز
- نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشقخاک کے پتلے کا ہے خاک کا پتلا عاشقپیر شیر محمد عاجز
- ہے خاک بسر صبا مرے بعدگلشن کی پھر ہوا مرے بعدپیر شیر محمد عاجز
- کون کہتا ہے تم ادا نہ کروپر وفا کی جگہ جفا نہ کروپیر شیر محمد عاجز
- اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیںملے ہمیں تخت ورنہ تختہ ہم اپنی اس بات پر اڑے ہیںرنجور عظیم آبادی
- تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سےسوا اس کے کہیں ہم کیا خدا ہی سمجھے ویلیم سےرنجور عظیم آبادی
- دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغاف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغرنجور عظیم آبادی
- سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہےاے بت کشش کچھ ایسی ترے سنگ در میں ہےرنجور عظیم آبادی
- میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سےکب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سےرنجور عظیم آبادی
- ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوںچل رہی ہے دل پہ عالم کے کٹاری ان دنوںرنجور عظیم آبادی
- یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کےکہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کےرنجور عظیم آبادی
- جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلےتماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلےرنجور عظیم آبادی
- اس بت کی زباں پر لو انورؔ پھر آج تمہارا نام آیاکیا جذب محبت جاگ اٹھا کیا جوش جنوں پھر کام آیاS. Nooruddin Anwar Bhopali
- تری نگاہ کے قابل نہیں تو کچھ بھی نہیںیہ دل خدا کی قسم دل نہیں تو کچھ بھی نہیںS. Nooruddin Anwar Bhopali