Poetry
Poet
Meter
- عشق میں چور بھی ہوں پیروئے منصور بھی ہوںیعنی میں طور بھی ہوں برق سر طور بھی ہوںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- لپٹ کر سو رہا ہوں لذت درد محبت سےیہ عشرت بعد مردن خاک میں ملتی ہے قسمت سےS. Nooruddin Anwar Bhopali
- مزہ الم میں نہیں لطف سوز جاں میں نہیںسبب یہ ہے کہ تپش پردۂ فغاں میں نہیںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- نہ کوئی نغمہ ہوں نہ ساز خوش نوا ہوں میںشکست شیشۂ دل کی مگر صدا ہوں میںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- نہ لائے دیکھنے کی تاب جلوہ دیکھنے والےتماشا بن گئے خود ہی تماشا دیکھنے والےS. Nooruddin Anwar Bhopali
- ہے میرے سامنے تصویر چشم یار ہنوزمیں پی رہا ہوں مئے حسن بار بار ہنوزS. Nooruddin Anwar Bhopali
- دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہےہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہےشیر محمد خاں ایمان
- دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گااپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گاشیر محمد خاں ایمان
- عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیںارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیںشیر محمد خاں ایمان
- قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہےکیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہےشیر محمد خاں ایمان
- کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گاایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گاشیر محمد خاں ایمان
- مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہمپھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہمشیر محمد خاں ایمان
- یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھاقیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھاشیر محمد خاں ایمان
- پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھےجنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھےشیر محمد خاں ایمان
- آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دےکون آ رہا ہے پاس مجھے دیکھنے تو دےTabassum Anwar
- ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھاروح کے گھاؤ کو دنیا سے چھپانا اچھاTabassum Anwar
- کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہوگیجھکی جو عشق کے در پر جبیں رہی ہوگیTabassum Anwar
- مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرددشت وحشت میں فقط میری ملاقاتی ہے گردTabassum Anwar
- مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہےجدھر چلوں نگہ طرح دار ناچتی ہےTabassum Anwar
- نہ رعب جاہ میں آ کر کسی سے گفتگو کیجو ہم نے کی تو پھر اپنی خوشی سے گفتگو کیTabassum Anwar
- وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہےبہ یک لحظہ یہ دشت دل چمن ہونے لگا ہےTabassum Anwar
- یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہےمرے شہر کی یہ فضا کس لیے ہےTabassum Anwar
- آساں ہے کسی نہر کا پتھر سے نکلناآساں نہیں ان کا دل مضطر سے نکلناUma Shankar Shadan Gwaliori
- راز غم افشا کروں یا راز رکھوں راز میںحکم ہو تو کچھ سناؤں آپ کی آواز میںUma Shankar Shadan Gwaliori
- کعبے کا پتہ اور کلیسا کا نشاں اوریہ کیا کہ وہی بات یہاں اور وہاں اورUma Shankar Shadan Gwaliori
- مجھ کو ڈر ہے کہیں ایسا دل ناکام نہ ہوعشق آغاز ہی آغاز ہو انجام نہ ہوUma Shankar Shadan Gwaliori
- مرا خیال پریشاں ہے میرا گھر تنہانہ جائیے مجھے ایسے میں چھوڑ کر تنہاUma Shankar Shadan Gwaliori
- میرا غم میرے خیالات ہی سب کچھ تو نہیںان کی محفل میں مری بات ہی سب کچھ تو نہیںUma Shankar Shadan Gwaliori
- وفا کے لطف محبت کے خواب مانگے ہےعجیب بات ہے ساقی شراب مانگے ہےUma Shankar Shadan Gwaliori
- وہ سوز و ساز وہ نغمہ خیال و خواب ہوامٹا کے ہم کو زمانہ بہت خراب ہواUma Shankar Shadan Gwaliori
- چاہتا ہے کوئی اگر اڑناتو ضروری ہے اس کا ڈر اڑناVijay kumar Swarnkar
- روکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاسدیمک لگی ہوئی ہے ہر اک جڑ کے آس پاسVijay kumar Swarnkar
- سمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیںاب انقلاب کے نسخے بدل دئے جائیںVijay kumar Swarnkar
- فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیارسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیاVijay kumar Swarnkar
- کٹ چکا جنگل مگر ضد پر اڑی ہےایک چڑیا گھونسلہ لے کر کھڑی ہےVijay kumar Swarnkar
- کہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہےاس بھور نے کیا ننگے بدن اوڑھ رکھا ہےVijay kumar Swarnkar
- ہر نئی ایجاد کی کل تک ہمیں بنیاد تھےلوگ لوہا بھی نہ تھے جس وقت ہم فولاد تھےVijay kumar Swarnkar
- یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھرکہ کس کے پھیر میں آ کر ہوئی ندی پتھرVijay kumar Swarnkar
- اسی چیز کی کوئی عزت نہیںزمانے کو جس کی ضرورت نہیںابومحمد سید حسین سیفی
- جہل حیوان کی نشانی ہےعقل انسان کی نشانی ہےابومحمد سید حسین سیفی
- علم کو پرہیزگاری چاہئےگلشنوں کو آبیاری چاہئےابومحمد سید حسین سیفی
- فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کوکیسے دانائی یہ سوجھی ترے دیوانے کوابومحمد سید حسین سیفی
- نہ ہو پہلو میں جب دل زندگی کیاارے ہم کیا ہماری دل لگی کیاابومحمد سید حسین سیفی
- نہیں کام آتی محبت کسی کینہ آئے کسی پر طبیعت کسی کیابومحمد سید حسین سیفی
- ہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہےزر بھی ہے زر گر بھی ہے زیور بھی ہےابومحمد سید حسین سیفی
- عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لواگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لوعاشق حسین بزم آفندی
- عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میںکیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میںعاشق حسین بزم آفندی
- کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھیاللہ کرے خیر ہو صورت نہیں اچھیعاشق حسین بزم آفندی
- یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہرچاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہرعاشق حسین بزم آفندی
- یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتاہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتاعاشق حسین بزم آفندی