Poetry
Poet
Meter
- کوئی نادان نہ دانا اچھاآپ اچھے تو زمانا اچھاعاشق حسین بزم آفندی
- مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی
- چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گےچمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گےعبد المجید سالک
- خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سےنہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سےعبد المجید سالک
- غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہےحادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہےعبد المجید سالک
- مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سےکہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سےعبد المجید سالک
- نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرومئے کہن کی نگار جواں کی بات کروعبد المجید سالک
- وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میںتڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میںعبد المجید سالک
- ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاںپوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہواعبد المجید سالک
- اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کوکچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کوعبدالعلیم آسی
- اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کرزندگی اپنی اس ارمان میں برباد نہ کرعبدالعلیم آسی
- جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دےکہ ذوق زندگی محدود سنگ آستاں تک ہےعبدالعلیم آسی
- حجاب گنج مخفی میں نہاں تھےالٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھےعبدالعلیم آسی
- حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوزنقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوزعبدالعلیم آسی
- کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میںکہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میںعبدالعلیم آسی
- وہ اگر بے حجاب ہو جاتاخلق میں انقلاب ہو جاتاعبدالعلیم آسی
- اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوامیرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہواChhabi Saksena Sahai Saba
- بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیامرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیاChhabi Saksena Sahai Saba
- تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلےجیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلےChhabi Saksena Sahai Saba
- کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں ابخاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں ابChhabi Saksena Sahai Saba
- کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرحکوئی آیا ہے بہاروں کی طرحChhabi Saksena Sahai Saba
- میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوںجو نہ کھل سکے وہی گل ہوں میں کہ چمن کا میں وہ فگار ہوںChhabi Saksena Sahai Saba
- یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنااو جگنو مری آنکھ کے کچھ دیر چمکناChhabi Saksena Sahai Saba
- آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکاجیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکاHafiz Ludhiyanvi
- جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہےلبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہےHafiz Ludhiyanvi
- شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہیلطف دیوانگی و ذوق تماشا ہی سہیHafiz Ludhiyanvi
- وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یادکچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یادHafiz Ludhiyanvi
- ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہےتجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہےHafiz Ludhiyanvi
- ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھیوہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھیHafiz Ludhiyanvi
- یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیںیہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیںHafiz Ludhiyanvi
- احوال رنج بزم میں کہنا محال ہےکہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہےMadhav Noor
- اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارےمری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارےMadhav Noor
- جب تک یہ گھر میں قید تھی کتنا سکون تھااب ساتھ ساتھ چلتی ہے تنہائیاں مریMadhav Noor
- دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گےتری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گےMadhav Noor
- گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چانددیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاندMadhav Noor
- میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئینورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئیMadhav Noor
- ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیںتم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیںMadhav Noor
- اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہمہر داغ دل کو رشک گلستاں کریں گے ہممجید لاہوری
- تو نے جب بھی آنکھ ملائیدیدہ و دل پر آفت آئیمجید لاہوری
- جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیابچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیامجید لاہوری
- حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعدکون دے گا تجھے کھجلی کی دوا میرے بعدمجید لاہوری
- زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارودل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارومجید لاہوری
- عید ملنے کا اک بہانہ ہواکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوامجید لاہوری
- عید کا دنمجید لاہوری
- دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پرگریباں کا ہو منہ دامن پہ دامن کا گریباں پرمنشی خیراتی لال شگفتہ
- گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروشبے نشاں ہو کر نکالیں گے نشان مے فروشمنشی خیراتی لال شگفتہ
- مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیادریا سمٹ کے حلقۂ ساغر میں آ گیامنشی خیراتی لال شگفتہ
- نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہےمیری ہستی صورت بود چراغ کشتہ ہےمنشی خیراتی لال شگفتہ
- ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقصصورت بسمل دکھائے بلبل ناکام رقصمنشی خیراتی لال شگفتہ
- اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیااسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیامنشی خیراتی لال شگفتہ