Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کوئی نادان نہ دانا اچھاآپ اچھے تو زمانا اچھاعاشق حسین بزم آفندی
  2. مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی
  3. چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گےچمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گےعبد المجید سالک
  4. خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سےنہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سےعبد المجید سالک
  5. غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہےحادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہےعبد المجید سالک
  6. مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سےکہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سےعبد المجید سالک
  7. نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرومئے کہن کی نگار جواں کی بات کروعبد المجید سالک
  8. وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میںتڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میںعبد المجید سالک
  9. ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاںپوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہواعبد المجید سالک
  10. اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کوکچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کوعبدالعلیم آسی
  11. اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کرزندگی اپنی اس ارمان میں برباد نہ کرعبدالعلیم آسی
  12. جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دےکہ ذوق زندگی محدود سنگ آستاں تک ہےعبدالعلیم آسی
  13. حجاب گنج مخفی میں نہاں تھےالٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھےعبدالعلیم آسی
  14. حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوزنقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوزعبدالعلیم آسی
  15. کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میںکہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میںعبدالعلیم آسی
  16. وہ اگر بے حجاب ہو جاتاخلق میں انقلاب ہو جاتاعبدالعلیم آسی
  17. اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوامیرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہواChhabi Saksena Sahai Saba
  18. بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیامرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیاChhabi Saksena Sahai Saba
  19. تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلےجیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلےChhabi Saksena Sahai Saba
  20. کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں ابخاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں ابChhabi Saksena Sahai Saba
  21. کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرحکوئی آیا ہے بہاروں کی طرحChhabi Saksena Sahai Saba
  22. میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوںجو نہ کھل سکے وہی گل ہوں میں کہ چمن کا میں وہ فگار ہوںChhabi Saksena Sahai Saba
  23. یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنااو جگنو مری آنکھ کے کچھ دیر چمکناChhabi Saksena Sahai Saba
  24. آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکاجیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکاHafiz Ludhiyanvi
  25. جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہےلبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہےHafiz Ludhiyanvi
  26. شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہیلطف دیوانگی و ذوق تماشا ہی سہیHafiz Ludhiyanvi
  27. وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یادکچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یادHafiz Ludhiyanvi
  28. ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہےتجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہےHafiz Ludhiyanvi
  29. ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھیوہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھیHafiz Ludhiyanvi
  30. یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیںیہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیںHafiz Ludhiyanvi
  31. احوال رنج بزم میں کہنا محال ہےکہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہےMadhav Noor
  32. اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارےمری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارےMadhav Noor
  33. جب تک یہ گھر میں قید تھی کتنا سکون تھااب ساتھ ساتھ چلتی ہے تنہائیاں مریMadhav Noor
  34. دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گےتری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گےMadhav Noor
  35. گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چانددیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاندMadhav Noor
  36. میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئینورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئیMadhav Noor
  37. ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیںتم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیںMadhav Noor
  38. اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہمہر داغ دل کو رشک گلستاں کریں گے ہممجید لاہوری
  39. تو نے جب بھی آنکھ ملائیدیدہ و دل پر آفت آئیمجید لاہوری
  40. جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیابچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیامجید لاہوری
  41. حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعدکون دے گا تجھے کھجلی کی دوا میرے بعدمجید لاہوری
  42. زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارودل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارومجید لاہوری
  43. عید ملنے کا اک بہانہ ہواکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوامجید لاہوری
  44. عید کا دنمجید لاہوری
  45. دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پرگریباں کا ہو منہ دامن پہ دامن کا گریباں پرمنشی خیراتی لال شگفتہ
  46. گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروشبے نشاں ہو کر نکالیں گے نشان مے فروشمنشی خیراتی لال شگفتہ
  47. مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیادریا سمٹ کے حلقۂ ساغر میں آ گیامنشی خیراتی لال شگفتہ
  48. نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہےمیری ہستی صورت بود چراغ کشتہ ہےمنشی خیراتی لال شگفتہ
  49. ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقصصورت بسمل دکھائے بلبل ناکام رقصمنشی خیراتی لال شگفتہ
  50. اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیااسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیامنشی خیراتی لال شگفتہ