Poetry
Poet
Meter
- مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوااک طبقہ بیت کا طبق آسمان ہوامنشی خیراتی لال شگفتہ
- سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مستہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مستمسکین شاہ
- کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایکہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایکمسکین شاہ
- کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحثمیں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحثمسکین شاہ
- ماہ رو یاں ہزار کو دیکھاہم نے اب تک نہ یار کو دیکھامسکین شاہ
- میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظرہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظرمسکین شاہ
- نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کامجہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کاممسکین شاہ
- شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آجروح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آجمسکین شاہ
- اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھامنزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھاRaazdan Raaz
- جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائےکل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائےRaazdan Raaz
- درد ہوگا تو کیا برا ہوگاعشق کا قرض کچھ ادا ہوگاRaazdan Raaz
- دل کبھی بے وفا نہیں ہوتاوقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتاRaazdan Raaz
- ساتھ کب تک نبھائے تنہائیوہ نہ آئے نہ موت ہی آئیRaazdan Raaz
- مدتوں سوچا کیا کہنے کو کچھپھر بھی مجھ سے کیا بنا کہنے کو کچھRaazdan Raaz
- یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہےبس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہےRaazdan Raaz
- تمہیں ایسا بے رحم جانا نہ تھاغرض کیا کہیں دل لگانا نہ تھاراسخ عظیم آبادی
- دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارااس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہماراراسخ عظیم آبادی
- شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہےبت خانہ نشیں باندھ کے زنار ہوا ہےراسخ عظیم آبادی
- غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہمسوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہمراسخ عظیم آبادی
- کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیرکہے تو ہے یہ عالم بزم تصویرراسخ عظیم آبادی
- کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تودل ہی سے کر اپنی پیدا راہ توراسخ عظیم آبادی
- ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کاشکوہ نہ کیا دل نے کبھو شکر خدا کاراسخ عظیم آبادی
- بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیںدکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیںSabiha Khan
- جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھیوہی میرے لئے دل کی لگی تھیSabiha Khan
- خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرازندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہراSabiha Khan
- خود کو اہل وفا سمجھتے ہیںاوروں کو بے وفا سمجھتے ہیںSabiha Khan
- کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیںدیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیںSabiha Khan
- ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کاعروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کاSabiha Khan
- یہی کاغذ یہی قلم ہوگاروز اک واقعہ رقم ہوگاSabiha Khan
- تمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو ماراتو پاسبانی میں اس شہید وفا کی آکر اجل رہی ہےTabeeb Arvi
- رفتہ رفتہ دل پر اس کافر کا قبضہ ہو گیادیکھتے ہی دیکھتے کعبہ کلیسا ہو گیاTabeeb Arvi
- ضیائے حسن جاناں جاگزیں معلوم ہوتی ہےبیاض چشم دل عرش بریں معلوم ہوتی ہےTabeeb Arvi
- محفل یار میں اغیار رہا کرتے ہیںایک ہم ہیں کہ جدائی میں جلا کرتے ہیںTabeeb Arvi
- نہ ٹھہرا دل مرا غم کھانے والاگیا دنیا سے آخر جانے والاTabeeb Arvi
- نہ دم باقی ہے آنکھوں میں نہ دل میں جان باقی ہےمگر دونوں میں تیری دید کا ارمان باقی ہےTabeeb Arvi
- وحشی تیرا طرز جنوں میں سب سے رہا بیگانہ بھیقیس سے گو الفت بھی رہی فرہاد سے تھا یارانہ بھیTabeeb Arvi
- اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیےدل مکاں کو اک مکیں بھی چاہیےTahira Jabeen
- جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچےآدمی آج کا یوں رسم کہن تک پہنچےTahira Jabeen
- جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہےمکیں ہوں اور گھر میرا نہیں ہےTahira Jabeen
- زندگی سے ہو مفر ممکن نہیںلاکھ چاہو تم مگر ممکن نہیںTahira Jabeen
- کبھی اثر نہ مرے حرف مدعا میں رہانہ اختیار کوئی دست نارسا میں رہاTahira Jabeen
- میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعدنہیں جمال کوئی بھی ترے جمال کے بعدTahira Jabeen
- نغمۂ زیست گنگنائے کونآگہی کا عذاب اٹھائے کونTahira Jabeen
- چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
- اب کوئے صنم چار قدم ہی کا سفر ہےکچھ اور مسافت کو ٹھہر کیوں نہیں جاتےUmar Farooq
- اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
- بدن کا بوجھ اٹھانا بھی اب محال ہواجو خود سے ہار کے بیٹھے تو پھر یہ حال ہواUmar Farooq
- مجھے خرید رہے ہیں مرے سبھی اپنےمیں بک تو جاؤں مگر سامنے تو آئے کوئیUmar Farooq
- مرے مالک مجھے اس خاک سے بے گھر نہ کرنامحبت کے سفر میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں میںUmar Farooq
- ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq