Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوااک طبقہ بیت کا طبق آسمان ہوامنشی خیراتی لال شگفتہ
  2. سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مستہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مستمسکین شاہ
  3. کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایکہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایکمسکین شاہ
  4. کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحثمیں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحثمسکین شاہ
  5. ماہ رو یاں ہزار کو دیکھاہم نے اب تک نہ یار کو دیکھامسکین شاہ
  6. میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظرہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظرمسکین شاہ
  7. نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کامجہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کاممسکین شاہ
  8. شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آجروح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آجمسکین شاہ
  9. اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھامنزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھاRaazdan Raaz
  10. جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائےکل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائےRaazdan Raaz
  11. درد ہوگا تو کیا برا ہوگاعشق کا قرض کچھ ادا ہوگاRaazdan Raaz
  12. دل کبھی بے وفا نہیں ہوتاوقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتاRaazdan Raaz
  13. ساتھ کب تک نبھائے تنہائیوہ نہ آئے نہ موت ہی آئیRaazdan Raaz
  14. مدتوں سوچا کیا کہنے کو کچھپھر بھی مجھ سے کیا بنا کہنے کو کچھRaazdan Raaz
  15. یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہےبس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہےRaazdan Raaz
  16. تمہیں ایسا بے رحم جانا نہ تھاغرض کیا کہیں دل لگانا نہ تھاراسخ عظیم آبادی
  17. دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارااس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہماراراسخ عظیم آبادی
  18. شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہےبت خانہ نشیں باندھ کے زنار ہوا ہےراسخ عظیم آبادی
  19. غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہمسوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہمراسخ عظیم آبادی
  20. کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیرکہے تو ہے یہ عالم بزم تصویرراسخ عظیم آبادی
  21. کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تودل ہی سے کر اپنی پیدا راہ توراسخ عظیم آبادی
  22. ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کاشکوہ نہ کیا دل نے کبھو شکر خدا کاراسخ عظیم آبادی
  23. بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیںدکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیںSabiha Khan
  24. جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھیوہی میرے لئے دل کی لگی تھیSabiha Khan
  25. خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرازندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہراSabiha Khan
  26. خود کو اہل وفا سمجھتے ہیںاوروں کو بے وفا سمجھتے ہیںSabiha Khan
  27. کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیںدیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیںSabiha Khan
  28. ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کاعروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کاSabiha Khan
  29. یہی کاغذ یہی قلم ہوگاروز اک واقعہ رقم ہوگاSabiha Khan
  30. تمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو ماراتو پاسبانی میں اس شہید وفا کی آکر اجل رہی ہےTabeeb Arvi
  31. رفتہ رفتہ دل پر اس کافر کا قبضہ ہو گیادیکھتے ہی دیکھتے کعبہ کلیسا ہو گیاTabeeb Arvi
  32. ضیائے حسن جاناں جاگزیں معلوم ہوتی ہےبیاض چشم دل عرش بریں معلوم ہوتی ہےTabeeb Arvi
  33. محفل یار میں اغیار رہا کرتے ہیںایک ہم ہیں کہ جدائی میں جلا کرتے ہیںTabeeb Arvi
  34. نہ ٹھہرا دل مرا غم کھانے والاگیا دنیا سے آخر جانے والاTabeeb Arvi
  35. نہ دم باقی ہے آنکھوں میں نہ دل میں جان باقی ہےمگر دونوں میں تیری دید کا ارمان باقی ہےTabeeb Arvi
  36. وحشی تیرا طرز جنوں میں سب سے رہا بیگانہ بھیقیس سے گو الفت بھی رہی فرہاد سے تھا یارانہ بھیTabeeb Arvi
  37. اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیےدل مکاں کو اک مکیں بھی چاہیےTahira Jabeen
  38. جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچےآدمی آج کا یوں رسم کہن تک پہنچےTahira Jabeen
  39. جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہےمکیں ہوں اور گھر میرا نہیں ہےTahira Jabeen
  40. زندگی سے ہو مفر ممکن نہیںلاکھ چاہو تم مگر ممکن نہیںTahira Jabeen
  41. کبھی اثر نہ مرے حرف مدعا میں رہانہ اختیار کوئی دست نارسا میں رہاTahira Jabeen
  42. میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعدنہیں جمال کوئی بھی ترے جمال کے بعدTahira Jabeen
  43. نغمۂ زیست گنگنائے کونآگہی کا عذاب اٹھائے کونTahira Jabeen
  44. چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
  45. اب کوئے صنم چار قدم ہی کا سفر ہےکچھ اور مسافت کو ٹھہر کیوں نہیں جاتےUmar Farooq
  46. اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
  47. بدن کا بوجھ اٹھانا بھی اب محال ہواجو خود سے ہار کے بیٹھے تو پھر یہ حال ہواUmar Farooq
  48. مجھے خرید رہے ہیں مرے سبھی اپنےمیں بک تو جاؤں مگر سامنے تو آئے کوئیUmar Farooq
  49. مرے مالک مجھے اس خاک سے بے گھر نہ کرنامحبت کے سفر میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں میںUmar Farooq
  50. ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq