Poetry
Poet
Meter
- اداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہےیہ کپ میں چائے نہیں ہے پرسوں سے ایک لمحہ پڑا ہوا ہےNaeem Naaz
- اسے چھپا لیا تھا میں نے آنکھ میںیہ لوگ خواب میں بھی جھانکنے لگےNaeem Naaz
- عجیب منطق ہے اس کو سوچیں گے خوش رہیں گےہم اپنی آنکھوں میں دھول جھونکیں گے خوش رہیں گےNaeem Naaz
- کوئی رشتہ ترے پیمان سے جوڑا جائےاب مرے ہجر کو عنوان سے جوڑا جائےNaeem Naaz
- ہوا بدن میں کسی یاد کی چلی جب بھیمجھے لگا مجھے چھو کر گزر گیا ہے کوئیNaeem Naaz
- یہ کینوس پہ جو زرد چہرہ بنا رہے ہیںتمہیں خبر ہو خزاں کا نقشہ بنا رہے ہیںNaeem Naaz
- اس تیرہ سرزمیں سے مثال قمر چلودیکھو فراز نور و نشیب سفر چلوQaisar Qalandar
- اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہےمحرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہےQaisar Qalandar
- اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہےسر تھامے ہوئے دل میں کہیں آس کھڑی ہےQaisar Qalandar
- تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہامیں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھاQaisar Qalandar
- جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میںاک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میںQaisar Qalandar
- یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیاسرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیاQaisar Qalandar
- آدمی وہ بھلا نہیں ہوتاجس کا دل آئنہ نہیں ہوتاQamar Gwaliari
- انسان کو انساں سے کچھ کام نہیں ہوتادنیا میں محبت کا جب نام نہیں ہوتاQamar Gwaliari
- پناہ ڈھونڈ رہا ہے ہر اک مکاں کی طرفکہ بچہ دوڑ کے آتا ہے جیسے ماں کی طرفQamar Gwaliari
- پھر جلا کوئی آشیاں صاحبپھر فضا ہے دھواں دھواں صاحبQamar Gwaliari
- کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑاکیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑاQamar Gwaliari
- لوگ پھرتے ہیں در بدر تنہاہو گیا کیا ہر ایک گھر تنہاQamar Gwaliari
- اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایاعرفاں کے ملک دیں پر حق سوں برات پایاقربی ویلوری
- خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہےسمجھتا ہے یو نکتے کوں جو عارف صاحب دل ہےقربی ویلوری
- کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تماممک ترا کرتا ہے غمزہ کام عاشق کا تمامقربی ویلوری
- ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آنور دیدہ ہو میری چشم کے ایوان میں آقربی ویلوری
- نہ ترا اے نگار بہتر ہےرخ پہ لہو کا نکھار بہتر ہےقربی ویلوری
- یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میںبولے کہ اے ہوائی یو نکتہ رک تو من میںقربی ویلوری
- آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیںڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیںRaj Bahadur Saxena Auj
- قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعدلائے گا رنگ خون شہیداں حنا کے بعدRaj Bahadur Saxena Auj
- کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیںشمع میں سوز زیادہ ہے کہ پروانے میںRaj Bahadur Saxena Auj
- لوٹ لے سرمایۂ دل لوٹ لےاے فریب چشم قاتل لوٹ لےRaj Bahadur Saxena Auj
- یہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آجڈوبی ہوئی آئے ہے پسینوں میں سحر آجRaj Bahadur Saxena Auj
- نغمۂ دل سوزRaj Bahadur Saxena Auj
- آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائےدل کو پھر خون تمنا سے سنوارا جائےSaba Jayasi
- اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائےایک تصویر ہی پتھر پہ بنا دی جائےSaba Jayasi
- بوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گاآہنی ہاتھوں سے اب کوئی دبا دے مجھ کوSaba Jayasi
- کہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائےتمہاری طرح اگر کوئی دوسرا مل جائےSaba Jayasi
- ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملیقصۂ درد چھڑا بات سے پھر بات چلیSaba Jayasi
- ہو گئی ساری پشیمانی عبثاپنی ہستی ہم نے پہچانی عبثSaba Jayasi
- بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گییہ غزل سانچے میں ڈھالی جائے گیSabiha Nasreen
- پری شیشہ کے اندر آ پڑی ہےمئے گلنار کی وقعت بڑی ہےSabiha Nasreen
- پھر ہمیں دیدۂ تر یاد آیاپھر ہمیں نور سحر یاد آیاSabiha Nasreen
- چشم و دل دونوں ہوئے آپ کی منزل جاناںراہ میں اب نہ رہی کوئی بھی مشکل جاناںSabiha Nasreen
- چمن میں سیر کی خاطر جو گل عزار آئےخراج حسن ادا کرنے برگ و بار آئےSabiha Nasreen
- رشتۂ حسن و محبت ہے نہایت نازکقصر معشوق کی ہوتی ہے اقامت نازکSabiha Nasreen
- اٹھئے تو کہاں جائیے جو کچھ ہے یہیں ہےباہر ترے گھر کے تو نہ دنیا ہے نہ دیں ہےسہا مجددی
- اسی عاشقی میں پیہم ہوئی خانماں خرابیدل مبتلا کی اب تک ہے وہی جنوں مآبیسہا مجددی
- جو کچھ ہوا سو ہوا اب سوال ہی کیا ہےبیان حال کروں مجھ میں حال ہی کیا ہےسہا مجددی
- خراب دید کو یوں ہی خراب رہنے دےکوئی حجاب اٹھا دے نقاب رہنے دےسہا مجددی
- دو عالم کے آفات سے دور کر دےاک ایسی نظر چشم مخمور کر دےسہا مجددی
- شوق بتان انجمن آرا لیے ہوئےپھرتا ہوں حشر میں وہی دنیا لیے ہوئےسہا مجددی
- پہلے مذاق درد تو پیدا کرے کوئیپھر اپنے دل میں تیری تمنا کرے کوئیسید واجد علی فرخ بنارسی
- خاک میں مل کے ہم آغوش بقا ہو جاناعین ہستی ہے محبت میں فنا ہو جاناسید واجد علی فرخ بنارسی