Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کیا اب کسی کی آرزو یا جستجو کریںاب خود سے ہی سوال کریں گفتگو کریںGauhar Seema
  2. وحشتوں کا آج پھر چرچا رہاآج پھر یہ دل مرا ٹھہرا رہاGauhar Seema
  3. اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہاسب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہاGhazal Ansari
  4. ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہوپھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہوGhazal Ansari
  5. بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیںہم بنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیںGhazal Ansari
  6. بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہےتری یادوں کو دل سے اب تو ہر صورت مٹانا ہےGhazal Ansari
  7. غیروں کی بستیوں میں رہنے کو آ رہے ہیںاس دل کو چھوڑ کر ہم دنیا بنا رہے ہیںGhazal Ansari
  8. نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنایہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھناGhazal Ansari
  9. بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہےمسئلہ تو انا کا ہوتا ہےIbn-e-Ummeed
  10. بن کے حسرت سما گیا اک شخصمجھ کو آنسو بنا گیا اک شخصIbn-e-Ummeed
  11. جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہےنام جیون کا تبھی ہم نے سزا رکھا ہےIbn-e-Ummeed
  12. جو جنوں تھا سو وہ اب نہیںمجھے اب تمہاری طلب نہیںIbn-e-Ummeed
  13. ہنسنا آہ و فغاں سے سیکھا ہےیہ ہنر بھی جہاں سے سیکھا ہےIbn-e-Ummeed
  14. اک رات اندھیری ہےاور وقت کی آندھی ہےIbn-e-Ummeed
  15. بدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلاکسی کا تیر کسی کی کمان سے نکلاKafeel Anwar
  16. ترے وجود کو بس آن بان میں رکھاکوئی بھی عکس نہ سونے مکان میں رکھاKafeel Anwar
  17. جہاں سے الگ اک جہاں چاہتا ہوںزمیں اور نیا آسماں چاہتا ہوںKafeel Anwar
  18. جہاں میں کوئی تمہارا جواب ہو نہ سکاستارا لاکھ بڑھا آفتاب ہو نہ سکاKafeel Anwar
  19. سورج چاند ستارے روشندھرتی کے مہ پارے روشنKafeel Anwar
  20. وہ کیا گیا مسلط مرا حال دیکھنے کوکہ عروج زندگانی کا زوال دیکھنے کوKafeel Anwar
  21. آئینہ در آئینہ قد آوری کا کرب ہےگمشدہ دانش وری ہے خود سری کا کرب ہےKaleem Haider Sharar
  22. انا زدہ تھا کہیں پر کہیں پر آن زدہزمیں کی زد سے نکلنے تک آسمان زدہKaleem Haider Sharar
  23. بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیںہمیں کیا رسم دنیا ہے کہ سب اپنوں پہ ہنستے ہیںKaleem Haider Sharar
  24. حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیںوہ جھوٹی ہوں کہ سچی داستانیں گھٹتی بڑھتی ہیںKaleem Haider Sharar
  25. زندہ رہنے کا بھرم آ کے کہاں پر ٹوٹااک ستارہ سا مری شہ رگ جاں پر ٹوٹاKaleem Haider Sharar
  26. کئی لوگوں نے پھلتے پھولتے پیڑوں سے جانا ہےمگر میں نے تجھے سبزے کی عریانی سے پہچاناKaleem Haider Sharar
  27. احساس قربتوں کا دلاتے ہوئے تجھےہم ڈوبنے لگے ہیں بچاتے ہوئے تجھےKalicharan Singh
  28. تمام وحشتیں میری بڑھا کے چھوڑ گیاوہ مجھ کو صحرا میں دریا دکھا کے چھوڑ گیاKalicharan Singh
  29. جانے کیا درمیان ٹوٹ گیاچھت تو ہے پر مکان ٹوٹ گیاKalicharan Singh
  30. دیار یاد میں لانی پڑی تری تصویرپھر آنسوؤں سے بنانی پڑی تری تصویرKalicharan Singh
  31. فلک کی رہنمائی دے رہے ہیںپرندے کو رہائی دے رہے ہیںKalicharan Singh
  32. ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیںآپ بھی دکھتے ہیں بیمار کہیں اور چلیںKalicharan Singh
  33. آنسو پینا اور مسکانا اچھا لگتا ہےچٹانوں سے سر ٹکرانا اچھا لگتا ہےM. J. Khalid
  34. آنسوؤں کے پھول پھل کا ذائقہ کچھ اور تھادرد کی شاخوں پہ کھلنے کا مزا کچھ اور تھاM. J. Khalid
  35. اپنی چپ میں وہ شان سمجھے ہےدل غموں کی زبان سمجھے ہےM. J. Khalid
  36. شعور زندہ ہے میرا نظر سلامت ہےتری دعا کا ابھی تک اثر سلامت ہےM. J. Khalid
  37. صبح کس کی ہے شام کس کی ہےزندگی زیر دام کس کی ہےM. J. Khalid
  38. گل مہر کی چھاؤں کا قصہ لکھوںیا پھر اپنی ذات کا نوحہ لکھوںM. J. Khalid
  39. خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھمیری راتوں کی سیاہی میں رنگ خوں کو طاری دیکھMadhuvan Rishi Raj
  40. دل کو خود دل بر سے خطرہگھر کو اب ہے گھر سے خطرہMadhuvan Rishi Raj
  41. قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہےجہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہےMadhuvan Rishi Raj
  42. کھلی لاشوں کا قبرستان بن کےبہت چپ ہے زمیں ویران بن کےMadhuvan Rishi Raj
  43. مرا ماضی ہے اک ہتھیار میراطماچہ موت کا ہر وار میراMadhuvan Rishi Raj
  44. میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہےعشق میں ہر آدمی کی اپنی اک رفتار ہےMadhuvan Rishi Raj
  45. تم کو اگر ہماری محبت نہیں رہیہم کو بھی اب عدو سے عداوت نہیں رہیمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
  46. چمکے ہیں سب کے بخت تری جلوہ گاہ میںواں کچھ نہیں تمیز سفید و سیاہ میںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
  47. روٹھو گے بے سبب تو منایا نہ جائے گابے جا تمہارا ناز اٹھایا نہ جائے گامنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
  48. مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیںکیا کہوں تم سے کہ کہنے میں دل زار نہیںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
  49. ہر دم شگفتہ تر جو ہنسی میں دہن ہواغنچہ سے پہلے گل ہوا گل سے چمن ہوامنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
  50. ہم ڈھونڈتے ہیں باغ میں اس گلعذار کوجلوہ نے جس کے رنگ دیا ہے بہار کومنشی بہاری لال مشتاق دہلوی