Poetry
Poet
Meter
- کیا اب کسی کی آرزو یا جستجو کریںاب خود سے ہی سوال کریں گفتگو کریںGauhar Seema
- وحشتوں کا آج پھر چرچا رہاآج پھر یہ دل مرا ٹھہرا رہاGauhar Seema
- اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہاسب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہاGhazal Ansari
- ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہوپھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہوGhazal Ansari
- بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیںہم بنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیںGhazal Ansari
- بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہےتری یادوں کو دل سے اب تو ہر صورت مٹانا ہےGhazal Ansari
- غیروں کی بستیوں میں رہنے کو آ رہے ہیںاس دل کو چھوڑ کر ہم دنیا بنا رہے ہیںGhazal Ansari
- نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنایہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھناGhazal Ansari
- بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہےمسئلہ تو انا کا ہوتا ہےIbn-e-Ummeed
- بن کے حسرت سما گیا اک شخصمجھ کو آنسو بنا گیا اک شخصIbn-e-Ummeed
- جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہےنام جیون کا تبھی ہم نے سزا رکھا ہےIbn-e-Ummeed
- جو جنوں تھا سو وہ اب نہیںمجھے اب تمہاری طلب نہیںIbn-e-Ummeed
- ہنسنا آہ و فغاں سے سیکھا ہےیہ ہنر بھی جہاں سے سیکھا ہےIbn-e-Ummeed
- اک رات اندھیری ہےاور وقت کی آندھی ہےIbn-e-Ummeed
- بدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلاکسی کا تیر کسی کی کمان سے نکلاKafeel Anwar
- ترے وجود کو بس آن بان میں رکھاکوئی بھی عکس نہ سونے مکان میں رکھاKafeel Anwar
- جہاں سے الگ اک جہاں چاہتا ہوںزمیں اور نیا آسماں چاہتا ہوںKafeel Anwar
- جہاں میں کوئی تمہارا جواب ہو نہ سکاستارا لاکھ بڑھا آفتاب ہو نہ سکاKafeel Anwar
- سورج چاند ستارے روشندھرتی کے مہ پارے روشنKafeel Anwar
- وہ کیا گیا مسلط مرا حال دیکھنے کوکہ عروج زندگانی کا زوال دیکھنے کوKafeel Anwar
- آئینہ در آئینہ قد آوری کا کرب ہےگمشدہ دانش وری ہے خود سری کا کرب ہےKaleem Haider Sharar
- انا زدہ تھا کہیں پر کہیں پر آن زدہزمیں کی زد سے نکلنے تک آسمان زدہKaleem Haider Sharar
- بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیںہمیں کیا رسم دنیا ہے کہ سب اپنوں پہ ہنستے ہیںKaleem Haider Sharar
- حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیںوہ جھوٹی ہوں کہ سچی داستانیں گھٹتی بڑھتی ہیںKaleem Haider Sharar
- زندہ رہنے کا بھرم آ کے کہاں پر ٹوٹااک ستارہ سا مری شہ رگ جاں پر ٹوٹاKaleem Haider Sharar
- کئی لوگوں نے پھلتے پھولتے پیڑوں سے جانا ہےمگر میں نے تجھے سبزے کی عریانی سے پہچاناKaleem Haider Sharar
- احساس قربتوں کا دلاتے ہوئے تجھےہم ڈوبنے لگے ہیں بچاتے ہوئے تجھےKalicharan Singh
- تمام وحشتیں میری بڑھا کے چھوڑ گیاوہ مجھ کو صحرا میں دریا دکھا کے چھوڑ گیاKalicharan Singh
- جانے کیا درمیان ٹوٹ گیاچھت تو ہے پر مکان ٹوٹ گیاKalicharan Singh
- دیار یاد میں لانی پڑی تری تصویرپھر آنسوؤں سے بنانی پڑی تری تصویرKalicharan Singh
- فلک کی رہنمائی دے رہے ہیںپرندے کو رہائی دے رہے ہیںKalicharan Singh
- ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیںآپ بھی دکھتے ہیں بیمار کہیں اور چلیںKalicharan Singh
- آنسو پینا اور مسکانا اچھا لگتا ہےچٹانوں سے سر ٹکرانا اچھا لگتا ہےM. J. Khalid
- آنسوؤں کے پھول پھل کا ذائقہ کچھ اور تھادرد کی شاخوں پہ کھلنے کا مزا کچھ اور تھاM. J. Khalid
- اپنی چپ میں وہ شان سمجھے ہےدل غموں کی زبان سمجھے ہےM. J. Khalid
- شعور زندہ ہے میرا نظر سلامت ہےتری دعا کا ابھی تک اثر سلامت ہےM. J. Khalid
- صبح کس کی ہے شام کس کی ہےزندگی زیر دام کس کی ہےM. J. Khalid
- گل مہر کی چھاؤں کا قصہ لکھوںیا پھر اپنی ذات کا نوحہ لکھوںM. J. Khalid
- خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھمیری راتوں کی سیاہی میں رنگ خوں کو طاری دیکھMadhuvan Rishi Raj
- دل کو خود دل بر سے خطرہگھر کو اب ہے گھر سے خطرہMadhuvan Rishi Raj
- قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہےجہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہےMadhuvan Rishi Raj
- کھلی لاشوں کا قبرستان بن کےبہت چپ ہے زمیں ویران بن کےMadhuvan Rishi Raj
- مرا ماضی ہے اک ہتھیار میراطماچہ موت کا ہر وار میراMadhuvan Rishi Raj
- میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہےعشق میں ہر آدمی کی اپنی اک رفتار ہےMadhuvan Rishi Raj
- تم کو اگر ہماری محبت نہیں رہیہم کو بھی اب عدو سے عداوت نہیں رہیمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- چمکے ہیں سب کے بخت تری جلوہ گاہ میںواں کچھ نہیں تمیز سفید و سیاہ میںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- روٹھو گے بے سبب تو منایا نہ جائے گابے جا تمہارا ناز اٹھایا نہ جائے گامنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیںکیا کہوں تم سے کہ کہنے میں دل زار نہیںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- ہر دم شگفتہ تر جو ہنسی میں دہن ہواغنچہ سے پہلے گل ہوا گل سے چمن ہوامنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- ہم ڈھونڈتے ہیں باغ میں اس گلعذار کوجلوہ نے جس کے رنگ دیا ہے بہار کومنشی بہاری لال مشتاق دہلوی