Poetry
Poet
Meter
- سہے ستم پہ ستم پھر بھی مدعا نہ ملاہمیں تو درد میں بھی درد کا مزا نہ ملاسید واجد علی فرخ بنارسی
- لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہےدرد بیمار نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہےسید واجد علی فرخ بنارسی
- نقش طلسم وہم ہے دنیا کہیں جسےنیرنگئی نظر ہے تماشا کہیں جسےسید واجد علی فرخ بنارسی
- وعدۂ وصل یار نے مارالذت انتظار نے ماراسید واجد علی فرخ بنارسی
- آپ جو درد دل کی دوا دے گئےمجھ کو جینے کا اک مدعا دے گئےTabish Dharam Koti
- ایسی کوئی خطا نہیں کرتےہم کسی سے دغا نہیں کرتےTabish Dharam Koti
- پارسائی کی بات کرتے ہوکیوں خدائی کی بات کرتے ہوTabish Dharam Koti
- درد دل درد جگر اچھا لگالمس دست چارہ گر اچھا لگاTabish Dharam Koti
- دل میں کوئی ارماں کوئی حسرت تو نہیں ہےاب صبر سے بڑھ کر کوئی دولت تو نہیں ہےTabish Dharam Koti
- لگا ہے روگ جب سے عاشقی کامزہ آنے لگا ہے زندگی کاTabish Dharam Koti
- اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آجحسن نظر نواز حریف نظر ہے آجتاجور نجیب آبادی
- حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھےآج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھےتاجور نجیب آبادی
- غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میںفضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میںتاجور نجیب آبادی
- محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوںشکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوںتاجور نجیب آبادی
- محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائےیہ لا حاصل ہی عمر عشق کا حاصل نہ بن جائےتاجور نجیب آبادی
- حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیںدرد آفریں نظر درد آشنا نہیںتاجور نجیب آبادی
- تمہاری یاد بڑی خوش گوار تھی لیکندل حزیں کے لیے تلخیاں بڑھا بھی گئیUmmaturrauf Nasreen
- دیکھیے اب نہ یاد آئیے آپآج کل آپ سے خفا ہوں میںUmmaturrauf Nasreen
- کیا تمہیں عہد محبت کے وہ لمحے یاد ہیںجب نگاہیں بولتی تھیں اور ہم خاموش تھےUmmaturrauf Nasreen
- مروت میں ہونے لگا ہے اضافہمحبت میں آنے لگی ہے کمیUmmaturrauf Nasreen
- میں نے بیتاب ہو کے ہاتھ بڑھائےاس نے بیتاب ہو کے چوم لیےUmmaturrauf Nasreen
- وہ ملتفت تھے ہم ہی بیاں کر سکے نہ حالمنزل کے پاس آ کے قدم ڈگمگا گئےUmmaturrauf Nasreen
- اس زندگی سے کوئی شکایت نہیں مجھےکہتی ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھےVala Jamal Al Aseeli
- اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرحمیں بھی ہوں عشق میں مسحور زلیخا کی طرحVala Jamal Al Aseeli
- تعبیروں کو ڈھونڈ رہی ہوں خوابوں کی پرواہ نہیںمنزل پر ہی نظر ہے میری رستوں کی پرواہ نہیںVala Jamal Al Aseeli
- دل سے مری یادوں کو رہا کیوں نہیں کرتےتم پھول سے خوشبو کو جدا کیوں نہیں کرتےVala Jamal Al Aseeli
- نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہےکہ ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہےVala Jamal Al Aseeli
- یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہےسکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہےVala Jamal Al Aseeli
- آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میراماہ کنعاں بھی نہیں حسن میں ہمسر میراوفا لکھنوی
- پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہاافلاس میں عروج کا ارماں کہاں رہاوفا لکھنوی
- شب فراق میں میں نالہ و فغاں کرتاتو سن کے سارا جہاں شور الاماں کرتاوفا لکھنوی
- گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہوجو یہ ساماں میسر ہو تو لطف زندگانی ہووفا لکھنوی
- یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہواتمام خانۂ دل جل گیا دھواں نہ ہواوفا لکھنوی
- درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریںمیں ہوں مشکور دم نزع جو پردا نہ کریںوفا لکھنوی
- پھر لب پہ تیرا ذکر ہے پھر تیرا نام ہےپھر جاں لٹانے والوں کا اک ازدحام ہےYahya Amjad
- بحث تو اپنی ہے ہی نہیں طاقت والوں سےسارے دعوے ان کے الگ ہیں اپنی دلیلیں الگ سی ہیںYahya Amjad
- خدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافلتمہاری یاد بھی باقی ہے دکھ بھی باقی ہےYahya Amjad
- طاقت ساری آپ کے بس میںساری ذہانت آپ کی ہےYahya Amjad
- نوحے لکھتے لکھتے یہ دل تھک جاتا ہےبکھرے ہوئے ہیں سب دل والےYahya Amjad
- شہرت اور عزت کے زینے پر چڑھتے فن کارکا سایہ ذلت کے پاتال میں اترا جاتا ہےYahya Amjad
- تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سےتم سے تو کم گلہ ہے زیادہ نصیب سےآغا حشر کاشمیری
- چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کیخوش بو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کیآغا حشر کاشمیری
- سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتیوہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتیآغا حشر کاشمیری
- ہاں ساقیٔ مستانہ بھر دے مرا پیمانہگھنگھور گھٹا ہے یا اڑتا ہوا مے خانہآغا حشر کاشمیری
- یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میںبھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میںآغا حشر کاشمیری
- ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیںمگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیںآسی الدنی
- الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہےغم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہےآسی الدنی
- باتوں میں تو اختیار شیرینی کراظہار نیاز و عجز و مسکینی کرآسی الدنی
- ظالم دم نزع نہ آیا افسوسافسانۂ غم نہ سننے پایا افسوسآسی الدنی
- قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھیآشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھاآسی الدنی