Poetry
Poet
Meter
- جدا ہو کے ہم سے بتوں سے ملا دلبھلا دل بھلا دل بھلا دل بھلا دلعبد الغفور نساخ
- جس نے تری بے باک ادا کو نہیں دیکھاواللہ کہ آنکھوں سے فضا کو نہیں دیکھاعبد الغفور نساخ
- ظاہراً موت ہے قضا ہے عشقپر حقیقت میں جاں فزا ہے عشقعبد الغفور نساخ
- نقش دل ہے ستم جدائی کاشوق پھر کس کو آشنائی کاعبد الغفور نساخ
- پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہاوہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہاعبد الغفور نساخ
- اسے بھی رسم کا حصہ بتایا جاتا ہےہمیں گھسیٹ کے بازار لایا جاتا ہےFaisal Saghar
- جو تھامتے تھے مرا ہاتھ بوڑھے ہو گئے ہیںتبھی تو میرے خیالات بوڑھے ہو گئے ہیںFaisal Saghar
- صدائے کن ہوئی یکسر وجود میں آیامیں بھر چکا تو سمندر وجود میں آیاFaisal Saghar
- مجھے اپنے ہی اندر چور سا محسوس ہوتا ہےتجھے دیکھوں تو کوئی دیکھتا محسوس ہوتا ہےFaisal Saghar
- میں گراں بار تھا اس واسطے کم مایہ تھاتجھ کو کیوں روندا گیا تو تو فقط سایہ تھاFaisal Saghar
- اس تعلق کو تو رستے کی رکاوٹ نہ سمجھاب کسی اور کا ہونا ہے تو چل جا ہو جاFaiyaz Aswad
- حسن کیا ہے نظر کی شوخی ہےعشق کیا ہے پتہ نہیں کیا ہےFaiyaz Aswad
- کب سے نکلا ہوا ہے کسی کھوج میںچاند اپنی جگہ پر نہیں آ رہاFaiyaz Aswad
- کب کہا تو ساتھ میرے خودکشی کرڈوبتا ہوں اور تو منظر کشی کرFaiyaz Aswad
- وہ سمجھ تو لیں کہ یوں ہے انہیں اس سے کیا کہ کیوں ہےمری آنکھوں کی یہ سرخی مرے ہونٹوں کی سیاہیFaiyaz Aswad
- آرزو محو خواب ہے شایدجستجو کا جواب ہے شایدGeeta Thakur Raushni
- اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہمکچھ بے قرار آپ تھے کچھ بے قرار ہمGeeta Thakur Raushni
- افسانۂ حیات کو دہرا رہے ہیں ہماپنے کئے کی آپ سزا پا رہے ہیں ہمGeeta Thakur Raushni
- طوفاں بدل گئے کبھی دھارے بدل گئےموجوں کے ساتھ ساتھ کنارے بدل گئےGeeta Thakur Raushni
- کہتے نہیں ہیں حال کسی راز داں سے ہمواقف ہوئے ہیں جب سے فریب جہاں سے ہمGeeta Thakur Raushni
- سرحد دشت سے آبادی کو جانے والوشہر میں اور بھی خوں ریز نظارے ہوں گےHabeeb Hashmi
- سفر کی آخری منزل میں پاس آیا ہےتمام عمر تھا جو دور آسماں کی طرحHabeeb Hashmi
- شب کی تنہائی میں ابھری ہوئی آواز جرسصبح گائی کا گجر ہو یہ ضروری تو نہیںHabeeb Hashmi
- نہ میں خستہ حال ہوتا نہ یہ اجنبی سے لگتےیہ حسیں حسیں فرشتے مجھے آدمی سے لگتےHabeeb Hashmi
- ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری ہے مگرسب کی تابندہ سحر ہو یہ ضروری تو نہیںHabeeb Hashmi
- بے نمود درد کی نمائش کیوںدل سے کرتی ہے آنکھ سازش کیوںHafeez Jauhar
- خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیںموسم اپنے اندر مرنے لگتے ہیںHafeez Jauhar
- کیا بتائیں کیا کمایا عشق میںدرد ہے دل میں نہ آنکھوں میں نمیHafeez Jauhar
- ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائریکھولنے بیٹھا ہوں گرہیں یاد کیHafeez Jauhar
- یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیںشاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیںHafeez Jauhar
- کیا ان کو دل کا حال سنانے سے فائدہہوگا تو ہوگا نوٹ دکھانے سے فائدہحاجی لق لق
- بہشت بریںحاجی لق لق
- مقصد حیاتحاجی لق لق
- آمدنی اور خرچحاجی لق لق
- نقش پائے یار کو چوموں تو آخر کس طرحہو برا پتلون کا مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہےحاجی لق لق
- آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیںحیرت الہ آبادی
- بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئےزلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئےحیرت الہ آبادی
- سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہےترا ارمان لے اے قاتل عالم نکلتا ہےحیرت الہ آبادی
- کسی محاذ پہ وہ بولنے نہیں دیتاضرورتاً بھی زباں کھولنے نہیں دیتاحیرت الہ آبادی
- یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کوآئینے میں خود چوم لیا اپنے دہن کوحیرت الہ آبادی
- در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسےگر کیجے گلہ صاف مکر جاتے ہیں کیسےکرامت علی شہیدی
- مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہےابھی وہ نام خدا ہے غنچہ نسیم چھو بھی نہیں گئی ہےکرامت علی شہیدی
- منزل سفر عشق کی زنہار نہ ٹوٹےجب تک کمر قافلہ سالار نہ ٹوٹےکرامت علی شہیدی
- ہزار مرتبہ دیکھا ستم جدائی کاہنوز حوصلہ باقی ہے آشنائی کاکرامت علی شہیدی
- جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گےہم عشق و ہوس کو کبھی یکجا نہ کریں گےکرامت علی شہیدی
- قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئیجو ہنس رہے تھے ان کو رلاتی چلی گئیLata Haya
- میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسوتری نظر میں فقط آب ہیں مرے آنسوLata Haya
- میں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیںچند لمحے مرا غم بانٹ لیا کرتے ہیںLata Haya
- میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہےکیا برا ہے جو حقیقت کو چھپا رکھا ہےLata Haya
- ہر قدم حادثے ہر نفس تلخیاںزندگی برق طوفاں خزاں آندھیاںLata Haya