Poetry
Poet
Meter
- بھولنا چاہتا کہاں ہوں میںدرد ہے اور بس رواں ہوں میںMadhukar Jha Khuddar
- بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہےہم تو یارو بارہا اشک رواں ہوتے رہےMadhukar Jha Khuddar
- کبھی کچھ کہیں یہ اجازت ہی دیجےنہ دیجے محبت عداوت ہی دیجےMadhukar Jha Khuddar
- کبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیںاسی دور محبت میں یہ دن یوں بیت جاتے ہیںMadhukar Jha Khuddar
- نارسائی مقام ہوتی ہےنیم شب جاں تمام ہوتی ہےMadhukar Jha Khuddar
- سامنے سے جو وہ نگار گیادل پہ تیر نگاہ مار گیامیر شیر علی افسوس
- سمند گرم جو یاں اس سوار کا پہنچاغبار تا فلک اس خاکسار کا پہنچامیر شیر علی افسوس
- گل بھی خوش طلعت ہے پر اے ماہ تو کچھ اور ہےباس اس میں اور کچھ ہے تجھ میں بو کچھ اور ہےمیر شیر علی افسوس
- مت بیٹھ وقت نزع تو یاں اے حسیں بہتالفت نہ کر تو آہ دم واپسیں بہتمیر شیر علی افسوس
- نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہےحقیقت میں نہیں جیتے بہ صورت زندگانی ہےمیر شیر علی افسوس
- آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیںکون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیںمظفر علی اسیر
- جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلکٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلکمظفر علی اسیر
- کس طرح آئے تری بزم طرب میں آئنہہے نظر بند آج کل شہر حلب میں آئنہمظفر علی اسیر
- باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیاگرم بازار ہوا وقت تماشہ آیامظفر علی اسیر
- حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکاتیغ کی آنچ سے گھر میں مرے کھانا پکامظفر علی اسیر
- جب شام کے سائے ڈھل جائیںجب شمعیں فلک کی جل جائیںQaisar Ziya Qaisar
- کیا کہوں زخم کتنا گہرا ہےدور تک صرف محض صحرا ہےQaisar Ziya Qaisar
- مری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیںمری پیشانی ہے مہتاب جیسیQaisar Ziya Qaisar
- میں اس کو تکتا رہتا ہوںجو فرخ زاد کی غزلوںQaisar Ziya Qaisar
- یہ تیرے ہجر کی آندھیکہاں لے آئی ہے مجھ کوQaisar Ziya Qaisar
- اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہےکیا خبر چہروں کے پیچھے کون دشمن ہےRaees Faraz
- اجلے پروں میں کون چھپا ہے پتا نہیںماتھے پہ تو کسی کے فریبی لکھا نہیںRaees Faraz
- پکار لیں گے اس کو اتنا آسرا تو چاہئےدعا خلاف وضع ہے مگر خدا تو چاہئےRaees Faraz
- تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگوں کا جال پھیلا ہےمیں پوچھتا ہوں رنگوں کے پار پانی کا رنگ کیسا ہےRaees Faraz
- ہاتھ سے آخر چھوٹ پڑا پتھر جو اٹھایا تھاکیا کرتا مجرم بھی تو خود اپنا سایا تھاRaees Faraz
- اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیںبگاڑیں گے ہزاروں گھر کہ وہ بن ٹھن کے بیٹھے ہیںRafi Ahmad Aali
- جب نقاب چہرۂ قاتل کھلاتب دل وابستۂ بسمل کھلاRafi Ahmad Aali
- سو بار قتل کر ہمیں تو اور جلائے جاجس طرح دل میں آئے ترے آزمائے جاRafi Ahmad Aali
- کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہایہ سمجھ مر مر کے میں جیتا رہاRafi Ahmad Aali
- ملی کیا خاک راحت کنج مرقد میں نہاں ہو کرزمین گور سر پر پھر رہی ہے آسماں ہو کرRafi Ahmad Aali
- آج پھر اس گلی میں جاتے ہیںاپنی قسمت کو آزماتے ہیںسید امیر حسن بدر
- تم پہ میں مر رہا ہوں مرنے دوکام کرنے کا ہے یہ کرنے دوسید امیر حسن بدر
- جب جوانی نہیں تو پھر کیا ہےزندگانی نہیں تو پھر کیا ہےسید امیر حسن بدر
- میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کاکون موقع ہے یہ شکایت کاسید امیر حسن بدر
- رخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربطیعنی ہے شیخ کعبہ کو اب برہمن سے ربطسید امیر حسن بدر
- ان سے کہتا ہوں یاد کر مجھ کویاد کرتے نہیں مگر مجھ کوVikas Naseeb
- ان کے سینہ پہ رکھ کے سر ہم نےطے کیا رات کا سفر ہم نےVikas Naseeb
- ان کے نقش قدم مہکتے ہیںپھول بھی جن سے کم مہکتے ہیںVikas Naseeb
- تیری تصویر میرے پاس نہیںاور کبھی ہونے کی بھی آس نہیںVikas Naseeb
- دل سے نکلی ہے گر دعا میریرنگ لائے گی ہر دعا میریVikas Naseeb
- اٹھا لے جائیں گلشن سے کدھر ہم آشیاں اپناہوا ہے عین فصل گل میں دشمن باغباں اپناوحیدالدین احمد وحید
- کیا میکدہ ہے عشق حقیقت میں یار کابے خود کا ہے جو حال وہی ہوشیار کاوحیدالدین احمد وحید
- وعظ میں جب نہیں اثر واعظکیوں پھراتا ہے اپنا سر واعظوحیدالدین احمد وحید
- یہی نہ سمجھو فقط اک خطاب ہیں ہم تمکوئی تو بات ہے جس کے جواب ہیں ہم تموحیدالدین احمد وحید
- چلتے ہیں ہم بھی سوئے چمن چھا گئی گھٹاساقی شراب لے کے پہنچ آ گئی گھٹاوحیدالدین احمد وحید
- جاں رہے نوچتے حیات کے دکھذات کے اور کائنات کے دکھZafar Rabab
- زرد پتوں کو ہوا ساتھ لئے پھرتی ہےدم گزیدہ ہیں قضا ساتھ لئے پھرتی ہےZafar Rabab
- سانحہ روز نیا ہو تو غزل کیا کہیےہر طرف حشر بپا ہو تو غزل کیا کہیےZafar Rabab
- مرگ احساس با لیقین آخرآدمی بن گیا مشین آخرZafar Rabab
- مضمحل قدموں پہ بارگردش لیل و نہارZafar Rabab