Poetry
Poet
Meter
- ایک کبوترنیل سمندرZafar Sayyad
- بڑے ملک کے اک بڑے شہر کیتنگ و تیرا گلی میں کھڑا ہوںZafar Sayyad
- سمندر خان اک پشتو کا شاعرجا رہا تھا گاؤں سے دور ایک ویرانے میںZafar Sayyad
- مرے پیارے بچےبڑا ظلم تم پر ہوا ہےZafar Sayyad
- میر باقر علیتم نے پھر بیچ میں داستاں روک دیZafar Sayyad
- گرچہ کچھ رنگ اس کا کالا ہےمیرا محبوب ہے نرالا ہےعظمت اللہ خاں
- ادھورا ٹکڑاعظمت اللہ خاں
- وطنعظمت اللہ خاں
- ننھا غاصبعظمت اللہ خاں
- پیارا پیارا گھر اپناعظمت اللہ خاں
- حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بناجو بنانا ہو بنا لیکن کسی قابل بناآزاد انصاری
- ستم دوست فکر عداوت کہاں تککہاں تک وفا سے بغاوت کہاں تکآزاد انصاری
- نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیںمسافر ہیں سفر کرنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیںآزاد انصاری
- یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوںوہی جلوہ نما ہے میں نہیں ہوںآزاد انصاری
- آج اک استاد نے جل کر کہاسب کے سب شاگرد نامعقول ہیںBadr Azimabadi
- جھوٹ کی عادت بری ہے جھوٹ مت بولا کروجھوٹ کی عادت رہی تو ایک دن پچھتاؤ گےBadr Azimabadi
- سوال جب بھی میں پوچھوں تو منہ کو تکتے ہوہے بات شرم کی یوں اپنے ہونٹ سی لیناBadr Azimabadi
- لاؤ تو بینت ذرا اس کی مرمت کر دوںغیر حاضر رہا کرتا ہے بہت دیواناBadr Azimabadi
- تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیںکبھی روضہ ترا یا احمد مختار آ دیکھیںعبد الحلیم شرر
- معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتےکہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتےعبد الحلیم شرر
- حسن شہہ لولاک جو چمکا شب معراججلووں سے نبی صبح تجلی شب معراجعبد الحلیم شرر
- کیا سہل سمجھے ہو کہیں دھبا چھٹا نہ ہوظالم یہ میرا خون ہے رنگ حنا نہ ہوعبد الحلیم شرر
- احساس دیکھیے مرے اشعار دیکھیےکیا کہہ رہی ہے آپ سے فن کار دیکھیےChashma Farooqi
- اے رب ذو الجلال ہے میری خطا بلندلیکن خطا سے بڑھ کے ہے تیری عطا بلندChashma Farooqi
- فتنے اٹھیں گے تو پیغام تباہی دیں گےاور تاریک فضاؤں کو سیاہی دیں گےChashma Farooqi
- مردہ ہو جاتے ہیں دل موت سے ڈرنے والےزندہ رہتے ہیں ترے نام پہ مرنے والےChashma Farooqi
- پانی کو بھر لو ہاتھ میںآنکھوں میں بھر لو رنگFaisal Rehan
- مجھ سے ملو تمباتوں کی چائے پرFaisal Rehan
- مجھے رنگوں سے محبت تھیزندگی کے کینوس پرFaisal Rehan
- مدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیںیوں ہی جیتے چلے جاتے ہیں بس لمحوں کی دھڑکن میںFaisal Rehan
- آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کیہم نے تعریف سنی تھی ترے دیوانوں کیHabab Tirmizi
- تمام رات بجھیں گے نہ میرے گھر کے چراغکہ یہ چراغ ہیں خون دل و جگر کے چراغHabab Tirmizi
- خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہآج کے دیدہ ور کا حال ہے یہHabab Tirmizi
- دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈپتھروں میں درد کی خوشبو نہ ڈھونڈHabab Tirmizi
- مجھے پانیوں پہ رقم کروکہ مری بساط غبار ہےJabbar Jameel
- بے نام آوارہ پودوںآزردہ اشجارJabbar Jameel
- کچھ برس اس پار کا قصہ ہےدوستوں کی بزم میں اک دن بڑے دعوےJabbar Jameel
- وسیع جنگل ہے ایک جانب پہاڑوں کا سلسلہ چلا ہےشام آہستگی سے پیڑوں پہ کہنیاں ٹیکتی ہےJabbar Jameel
- سراغ مجھ سے ملے گا نہ رونق شب کاچراغ تو ہوں مگر بجھ چکا ہوں میں کب کاJai Prakash Ghafil
- کنار دریا جنون طوفاں ہر ایک گوہر کی آب میں ہوںبغیر میرے سبھی ہیں پانی کہ موجوں کا اضطراب میں ہوںJai Prakash Ghafil
- میں تیرے پاس ہوں مجھ سے یہ کہہ رہا کوئی ہےتمام شب مری آنکھوں میں جاگتا کوئی ہےJai Prakash Ghafil
- ہے نوک خار میں کچھ وہ تو سبزہ زار میں کچھخزاں میں کچھ ہے مگر موسم بہار میں کچھJai Prakash Ghafil
- اگرچہ حادثے گزرے ہیں پانیوں کی طرحخموش رہ گئے ہم لوگ ساحلوں کی طرحKaif Ansari
- تیرے حسین جسم کی پھولوں میں باس ہےگو وہم ہے یہ وہم قرین قیاس ہےKaif Ansari
- جب بھی ڈوبے ہوئے سورج نے ابھرنا چاہاشہر والوں نے بھی گلیوں میں بکھرنا چاہاKaif Ansari
- چاند ابھرا نہ مرے جسم سے سایا نکلاشام غم آئی تو میں گھر سے اکیلا نکلاKaif Ansari
- اک اک قدم پہ رکھی ہے یوں زندگی کی لاجغم کا بھی احترام کیا ہے خوشی کے ساتھKaifi Bilgrami
- مجھے چاک گریباں پر ہنسی آئی تو ہے لیکنمرے ہنسنے پہ ان کی آنکھ بھری آئی تو کیا ہوگاKaifi Bilgrami
- ہر قدم پر رہ محبت میںزندگی کا سوال آتا ہےKaifi Bilgrami
- ہم نے ارادہ ترک تمنا کا جب کیاتیرا خیال اے دل ناکام آ گیاKaifi Bilgrami