Poetry
Poet
Meter
- ان کے رخ پر حجاب رہتا ہےجیسے مہ پر سحاب رہتا ہےLaiq Akbar sahaab
- دوستوں نے یہ گل کھلایا تھاہاتھ دشمن سے جا ملایا تھاLaiq Akbar sahaab
- دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگاچھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگاLaiq Akbar sahaab
- نہیں تنہا نہیں ہوں میںتمہارے سحر کے دھاگوں نےLaiq Akbar sahaab
- حضرت دل جو کسی مس کے حوالے ہوتےجتنے گورے ہیں مقرر مرے سالے ہوتےماسٹر باسط بسوانی
- عدو کمبخت کو سودا ہے کچھ ایسا جدائی کالئے سر پر پھرا کرتا ہے ڈھانچہ چارپائی کاماسٹر باسط بسوانی
- ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعدسب بتا دوں گا میں تجھ کو مگر اک بات کے بعدماسٹر باسط بسوانی
- ہم اپنی جان سے اے بت بہت بیزار بیٹھے ہیںبھری برسات میں آکر پس دیوار بیٹھے ہیںماسٹر باسط بسوانی
- کسانمیکش حیدرآبادی
- شاعرمیکش حیدرآبادی
- اندھامیکش حیدرآبادی
- بھوکے پیٹمیکش حیدرآبادی
- ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیںکدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیںمیر محمد سلطان عاقل
- نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کامجھے تو نے ظالم نہ رکھا کہیں کامیر محمد سلطان عاقل
- واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئےمدت ہوئی ہے توبہ سے توبہ کیے ہوئےمیر محمد سلطان عاقل
- یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہیہم یہ سمجھیں گے کہ افزائش غم اور سہیمیر محمد سلطان عاقل
- بھاتی ہیں دل کو پیارے ناز و ادائیں تیریدل میں یہ آرزو ہے لے لوں بلائیں تیریمیراں شاہ جالندھری
- جب سے دلبر کا آستاں دیکھاتھا جو دشمن وہ مہرباں دیکھامیراں شاہ جالندھری
- جلوہ جب مجھ کو دکھایا یار نےوہم ہستی کا اٹھایا یار نےمیراں شاہ جالندھری
- صنم کے ہجر کا بیمار میں ہوںاسی کے عشق میں سرشار میں ہوںمیراں شاہ جالندھری
- مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوانصیب پر نہ ہوا یہ کہ ایک عذاب ہوامرزا رحیم الدین حیا
- موت ہی چارہ ساز فرقت ہےرنج مرنے کا مجھ کو راحت ہےمرزا رحیم الدین حیا
- نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظکہئے عاشق کو رہے خاک لحاظمرزا رحیم الدین حیا
- ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوایہ بھی اک کھیل ہوا فتنۂ محشر نہ ہوامرزا رحیم الدین حیا
- جو مزا اپنے یار میں دیکھانہ کہو وہ بہار میں دیکھاNaeem Dehlavi
- رات کیا اضطرار تھا کیا تھادل ترا بیقرار تھا کیا تھاNaeem Dehlavi
- ملتے ہی دل نے ہم کو گرفتار کر دیارسوائے شہر و کوچہ و بازار کر دیاNaeem Dehlavi
- نعیم آج میں اس شکل کو جواں دیکھاخدا کو صورت انسان میں عیاں دیکھاNaeem Dehlavi
- خیر لایا تو جنوں دیوار سے در کی طرفاب نظر جانے لگی باہر سے اندر کی طرفنیر سلطانپوری
- دل ہی تو ہے نگاہ کرم سے پگھل گیاشکوہ لبوں پہ آ کے تبسم میں ڈھل گیانیر سلطانپوری
- سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میںزخموں کا ایک باغ لیے پھر رہا ہوں میںنیر سلطانپوری
- شکوہ جو میرا اشک میں ڈھلتا چلا گیاسارا غبار دل کا نکلتا چلا گیانیر سلطانپوری
- اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالوہم کو اپنے گلے لگا لونواب سلیمان شکوہ
- جب تیغ کو پکڑ وہ خونخوار گھر سے نکلاتب میں بھی جان سے ہو بیزار گھر سے نکلانواب سلیمان شکوہ
- ساقیا ہے یہ جام کا عالمجیسے ماہ تمام کا عالمنواب سلیمان شکوہ
- گھر سے برقعہ جو الٹ وہ مہ تاباں نکلاچونک اٹھی خلق کہ ایں مہر درخشاں نکلانواب سلیمان شکوہ
- اب یہی صورت دیدار بنا لیتے ہیںان سے ملنے کا حسیں خواب سجا لیتے ہیںOmaima Yusuf
- اک محبت بے دلی کے کام آئیبے دلی میں پھر سخن کی شام آئیOmaima Yusuf
- بظاہر ٹھیک لگتے ہو مگر یہ آنکھ کیوں نم ہےخوشی پر رو دئے ہو کیوں تمہیں کس بات کا غم ہےOmaima Yusuf
- جب دل کو اضطراب کے نالوں نے آ لیاہولے سے ہم نے نام ترا گنگنا لیاOmaima Yusuf
- بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیںکسی دستک کا لرزتا ہوا جھونکا بھی نہیںParvez Bazmi
- جاگتی آنکھوں میں کیسے خواب در آنے لگےراستے میری طرف لے کر سفر آنے لگےParvez Bazmi
- دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لئےسو گئیں شاید ہوائیں گود میں بادل لئےParvez Bazmi
- وہ خواب خواب فضا وہ نگر کسی کا تھامسافرت تو مری تھی سفر کسی کا تھاParvez Bazmi
- بادۂ وحشت اثر سے مست ویرانے میں تھاایک عالم بے خودی کا تیرے دیوانے میں تھاپیارے لال رونق دہلوی
- کیا ہے عشق نے آزاد دو جہاں سے ہمیںنہ کچھ یہاں سے غرض ہے نہ کچھ وہاں سے ہمیںپیارے لال رونق دہلوی
- نثار شمع ہونے بزم میں پروانہ آ پہنچاقریب منزل دیوانگی دیوانہ آ پہنچاپیارے لال رونق دہلوی
- رنگ تصویر جہاں کو ترا نقشا سمجھاذرہ ذرہ کو میں اک حسن سراپا سمجھاپیارے لال رونق دہلوی
- بنتے ہی شہر کا یہ دیکھیے ویراں ہوناآنکھ کھلتے ہی مرا دہر میں گریاں ہوناS A Mehdi
- کیسے کروں میں ضبط راز تو ہی مجھے بتا کہ یوںاے دل زار شرح راز مجھ سے بھی تو چھپا کہ یوںS A Mehdi