Poetry
Poet
Meter
- مجھ سے ملنے کے لیے ماہ وہ گھر سے نکلاکام میرا مری آہوں کے اثر سے نکلاصغرا ہمایوں مرزا
- مسیحا آ کے بالیں پر جو رو جائے تو رو جائےنصیبہ جاگ کر اپنا جو سو جائے تو سو جائےصغرا ہمایوں مرزا
- میرے بعدصغرا ہمایوں مرزا
- عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہوعیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہوشاہ نیاز احمد
- ہم کو یاں در در پھرایا یار نےلا مکاں میں گھر بنایا یار نےشاہ نیاز احمد
- یار کو ہم نے جا بجا دیکھاکہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھاشاہ نیاز احمد
- تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروںکوئی اتنا تو آ کر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروںTabish Kanpuri
- حسن اور عشق دونوں میں تفریق ہے پر انہیں دونوں پہ میرا ایمان ہےگر خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں اور صنم روٹھ جائے تو میں کیا کروںTabish Kanpuri
- عشق ایمان دونوں میں تفریق ہےپر انہیں دونوں پہ میرا ایمان ہےTabish Kanpuri
- امن و اماں کی خاطر کھائی تھیں ہم نے قسمیںلیکن رہا نہیں ہے یہ کام اپنے بس میںUddhav Mahajan Bismil
- تصور میں ہمارے بھی کسی کا حسن پلتا ہےتغزل کا چراغ اس واسطے آنکھوں میں جلتا ہےUddhav Mahajan Bismil
- سخن کی راہ میں پیہم عمل کے ساتھ رہوںبکھیرتا رہوں خوشبو ہر ایک محفل میںUddhav Mahajan Bismil
- تھم ذرا وقت اجل دیدار جاں ہونے لگاآخری ہچکی پہ کوئی مہرباں ہونے لگاUmmeed KHwaja
- روٹھنا چاہو تو اب ہرگز منانے کا نہیںدل کو مائل کر لیا آنسو بہانے کا نہیںUmmeed KHwaja
- زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھجیسے اک نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے ساتھUmmeed KHwaja
- تو مری جستجو مسلسل ہےشامل گفتگو مسلسل ہےUroosa Jilani
- خود شیشے کے گھر میں بیٹھے پتھر پھینکیں اوروں پرزخمی لوگ پکاریں بھی تو تہمت آئے لوگوں پرUroosa Jilani
- رنج و الم ستائے تو کہتی ہوں میں غزلفرقت جو جاں جلائے تو کہتی ہوں میں غزلUroosa Jilani
- دل کا خیال کرنے کا کس کو ملال ہےتیرے خیالی عشق کا ہم سے سوال ہےVatsal Sharma Vats
- گھٹ گھٹ کے تیرے عشق میں کتنا رہا ہوں میںاتنا کہ اپنے ساتھ بھی تنہا رہا ہوں میںVatsal Sharma Vats
- مشکل ہے کہنا شعر کا جانے بھی کوئی کیابس واہ واہ ملتی ہے مانے بھی کوئی کیاVatsal Sharma Vats
- آنکھوں سے یادوں کا دریا بہتا ہےخواب ہمیشہ مجھ میں اس کا رہتا ہےVihan Gupta
- جب میں اس کے گھر کو جایا کرتا تھادروازہ خود ہی کھل جایا کرتا تھاVihan Gupta
- دیا سے دعا سے ادا سے وفا سےمجھے ٹھیک کر دو کسی بھی دوا سےVihan Gupta
- جب بھی جذبات کا طوفان آئےمیرے الفاظ بہا کر لے جائےVijay Arun
- عشق نے برباد کر دی زندگی ہائے رے عشقکم ہوئی پھر بھی نہ اس کی دل کشی ہائے رے عشقVijay Arun
- ملن کی رات وہ پہلی نہیں ممکن بھلا پانامرا تیرے قریب آنا ترا خود میں سمٹ جاناVijay Arun
- کبھی ملیں گے تو یہ قرض بھی اتاریں گےتمہارے چہرے کو پیروں تلک نہاریں گےVikram Gaur Vairagi
- صرف شکوے دکھ رہے ہیں یہ نہیں دکھتا تجھےتجھ سے شکوے رکھنے والا تیرا دیوانہ بھی ہےVikram Gaur Vairagi
- میں ابھی ہنستا اٹھوں اور چہکنے لگ جاؤںپر یہ مشکل ہے مرا یار نہیں مان رہاVikram Gaur Vairagi
- آپ اپنا نشاں نہیں معلوملٹ گئے ہم کہاں نہیں معلومYaqoob Ali Aasi
- داغہائے دل کی تابانی گئیان کے جلووں کی فراوانی گئیYaqoob Ali Aasi
- یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیبدل حزیں کو مگر ہے کہاں قرار نصیبYaqoob Ali Aasi
- تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروںردائے وقت کو کیا داغدار میں بھی کروںYaqoob Arif
- نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میںنظر میں پھر بھی زمانے کی معتبر تھا میںYaqoob Arif
- وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتابنا کے راہ میں وہ کوئی جادہ کیا کرتاYaqoob Arif
- جیب و گریباں ٹکڑے ٹکڑے دامن کو بھی تار کیاکیسے کیسے ہم نے اپنی وحشت کا اظہار کیاZafar Anwar
- زہر غم دل میں سمونے بھی نہیں دیتا ہےکرب احساس کو کھونے بھی نہیں دیتا ہےZafar Anwar
- سر میں سودا بھی وہی کوچۂ قاتل بھی وہیرقص بسمل بھی وہی شور سلاسل بھی وہیZafar Anwar
- اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہےاس عشق نے بھی کیسی جواں موت پائی ہےZaheer Fatehpuri
- جمال پا کے تب و تاب غم یگانہ ہوا ہےمرے لیے یہ زر گل چراغ خانہ ہوا ہےZaheer Fatehpuri
- درد ان دنوں یوں چہرۂ عالم پہ سجا ہےہر شخص نے جیسے مرا غم بانٹ لیا ہےZaheer Fatehpuri
- پانی جگ مگ کرتا جائےسورج اس میں ڈوبا جائےAamina Azfar
- یہ جو ڈھل رہا ہے سورجکہاں جا رہا ہے سورجAamina Azfar
- راہ پر خار ہے کیا ہونا ہےپاؤں افگار ہے کیا ہونا ہےاحمد رضا خان
- لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جاناجگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانااحمد رضا خان
- سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیںہمہ تن برف ہیں آہوں میں دھواں رکھتے ہیںاشک رامپوری
- محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سےدور تک آنکھ ملاتے گئے پیمانے سےاشک رامپوری
- خواہشیں دنیا کی بار دوش و گردن ہو گئیںرفتہ رفتہ منزل عقبیٰ کی رہزن ہو گئیںاوج لکھنوی
- چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھاتو جدھر ہے اسی جانب کو اجالا دیکھااوج لکھنوی